Faqat Ali Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Syed Muhammad Shah
امیر ایسا کے جس پہ غربت کی انتہا ہے فقط علی ہے
وہ جس میں قتل بتول سہنے کا حوصلہ ہے فقط علی ہے
بغیر روئے وہ اپنی دہلیز اور در سے نہیں گزرتا
جو قتل گاہ بتول ہر روز دیکھتا ہے فقط علی ہے
صدائیں کوفے میں دے رہا ہے علی سے بدلے ابھی چکا لو
تمہاری مجرم نہیں ہے زینب تمہیں پتہ ہے فقط علی ہے
ہے بنتا اس کو غریب کہنا کہ اس کی بیٹی ہے سر برہنہ
وہ جس کے بیٹے کو پتھروں کا کفن ملا ہے فقط علی ہے
اسے خبر ہے کہ زندگی بھر منا سکے گی نہ عید زینب
جو نیند سے پھر بھی اپنا قاتل جگا رہا ہے فقط علی ہے
یہ ضرب ملجم نے کیا کیا ہے کہ خون چہرے پہ بہہ رہا ہے
وہ جس کے چہرے پہ اس کا نوحہ لکھا ہوا ہے فقط علی ہے
نہ دیکھے بابا کی وہ اسیری نہ یاد زینب کو شام آئے
جو داغ رسی کے بیٹیوں سے چھپا رہا ہے فقط علی ہے
یہ راز بے شک ہے راز محسن مگر ہے غربت کا اک حوالہ
جنازہ اپنا جو خود لحد میں اتارتا ہے فقط علی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.