Munazra
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Mir Hasan Mir
دوستو آؤ سناؤں تم کو میں اک واقعہ
ایک دن مجلس سے اپنے گھر کی جانب میں چلا
راستے میں سامنا واعظ سے میرا ہو گیا
حسب عادت طنزیہ لہجے میں وہ کہنے لگا
شرک ہے غیر خدا پر اشک برسانا سنو
میں یہ بولا بات اب میری بھی مولانا سنو
آدم و حوا کا کیا بیٹے پہ رونا شرک تھا
حضرت یعقوب نے یوسف پہ کیوں گریہ کیا
تو اگر ہے امتی سرکار کا تو یہ بتا
حضرت حمزہ پہ کیوں روئے محمد مصطفی
یا تو اب سرکار سے تو اپنا رشتہ توڑ دے
یا عزاداروں پہ واعظ طنز کرنا چھوڑ دے
کاٹ کر پھر بات میری یہ کیا اس نے سوال
کیوں مدد حیدر سے لیتے ہو بجائے ذوالجلال
میں یہ بولا اپنی بوسیدہ کتابیں تو کھنگال
ان میں مل جائے گی تجھ کو جنگ خیبر کی مثال
تجھ پہ ہو جائے گا ثابت بحث یہ بیکار ہے
نعرہ حیدر لگانا سنت سرکار ہے
باتوں باتوں میں جہالت اسکی جب کھلنے لگی
بڑھتے بڑھتے بات ذکر کربلا تک آ گئی
وہ یہ بولا کربلا تو جنگ شہزادوں کی تھی
میں یہ بولا کربلا ہے زندگی اسلام کی
تیرے شہزادے سے بڑھ کر یوں میرا شبیر ہے
وہ سراپا رجس ہے یہ وارث تطہیر ہے
منہ بنا کر تلملا کر پھر چلی اسکی زباں
تو ہے مولائی تو حیدر کے فضائل کر بیاں
میں یہ بولا اس قدر برداشت ہے تجھ میں کہاں
سوچ لے دل پر تیرے گرنے لگیں گی بجلیاں
تیری صحت کیلئے کافی ہے یہ غیبی پکار
لافتی الا علی لا سیف الا ذوالفقار
بات ایمان ابوطالب کی اس نے چھیڑ دی
کفر پر اسکے مطابق گزری ان کی زندگی
میں یہ بولا پھر تو یہ توہین ہے اللہ کی
پرورش کافر کے گھر سرکار کی ہوتی رہی
عقد پیغمبر پڑھا جس نے وہ انساں کون ہے
گر ابوطالب ہیں کافر پھر مسلماں کون ہے
پڑھ کے وہ لاحول آخر خود ہی غائب ہو گیا
مسکرا کر میں نے پوچھا خیر تو ہے کیا ہوا
اب یقیں آیا غم سرور میں رونا ٹھیک تھا
پھر مجھے روتا ہوئے میدان محشر میں ملا
آہ بھر کر وہ یہ بولا ہائے میں مارا گیا
مانتا ہوں میں تکلم تیرا کہنا ٹھیک تھا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.