Yaad-e-Sehwan
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Mir Sajjad Mir
گزشتہ سال دیوانوں کے یہ پرواز کے دن تھے
تھا ان کا عرس یعنی حضرت شہباز کے دن تھے
ہر اک مولائی کا تھا ان دنوں گویا ہدف سیہون
تھی ایسی گونج نعروں کی کہ جیسے ہو نجف سیہون
تھا مثل شمع روضہ اور سبھی پروانے یکجا تھے
علی کے لعل کے در پر کئی موتی اکٹھا تھے
کہیں ماتم کہیں نوبت کہیں مجلس کہیں نوحے
دھمالوں کی کہیں آواز پر لگتے ہوئے نعرے
مگر اس سال اے میرے خدا سنسان ہے روضہ
نہیں ہے ایک بھی زائر بہت ویران ہے روضہ
جو دل میں راز تھے ہم راز کو اپنے بتانے تھے
بہت سے مسئلے میں نے قلندر کو سنانے تھے
میرا ہر زخم دل ان کے شفا خانے میں سلتا تھا
ہمیشہ حوصلہ مجھ کو میرے سائیں سے ملتا تھا
میرے مالک بتا دے اب شفا پانے کہاں جاؤں
وہ در تو بند ہے اب ہاتھ پھیلانے کہاں جاؤں
اچانک دل کی دھڑکن نے تخیل میں خلل ڈالا
اچانک میری نا امیدی کو امید میں بدلا
کہا دل نے کہ ہر اک قلب پے قدرت ہے سیہون کی
اسے دھڑکن نہیں سمجھو کہ یہ نوبت ہے سیہون کی
بلاؤں سے سدا آزاد تھا آزاد ہے سیہون
ملنگوں کے دلوں میں آج بھی آباد ہے سیہون
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.