Ashoor ko jalte qaimon
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Faazil Lakhnavi
عاشور کو جلتے خیموں میں
کیا جانیےء کیا کیا چھوٹ گیا
گھبرا کے نکل آئ بانو
بے شیر کا جھولا چھوٹ گیا
عاشور کو جلتے۔۔۔
نور آنکھوں کا اکبر لے کے گےء
نظروں میں اندھیرا چھوٹ گیا
یوں ساتھ اٹھای مولا نے
برچی میں کلیجہ چھوٹ گیا
عاشور کو جلتے۔۔۔
دریا کے کنارے مہمانی
اور بند ہے قسمت سے پانی
اے بہتی موجوں دیکھ تو لو
بے شیر بھی پیاسا چھوٹ گیا
عاشور کو جلتے۔۔۔
اسلام کی نظریں دیکھ تو لے
ایمان زرا پہچان تو لے
یہ کون ہے بی بی کوفے میں
یہ کس کا پردہ چھوٹ گیا
عاشور کو جلتے۔۔۔
ساحل کے قریب گھوڑے سے گرے
عباس کو جلتی خاک ملی
شبیر کا دامن چھٹ نہ سکا
بہتا ہوا دریا چھوٹ گیا
عاشور کو جلتے۔۔۔
یہ پارہ پارہ لاشہ ہے
شبیر کا جلتی ریتی پر
پیشانیء عالم جھکنے کو
یا خاک پہ کعبہ چھوٹ گیا
عاشور کو جلتے۔۔۔
چھ ماہ کے بچے کی ہمت
انجام سے نظریں ٹکرای
ہونٹوں پہ ہنسی لہرانے لگی
بے شیر کا رونا چھوٹ گیا
عاشور کو جلتے۔۔۔
کیا لے کے گےء کیا لے جاتے
بانو کی نشانی دے کے گےء
اک خالی جھولا چھوٹ گیا
اک ننھا سا کرتہ چھوٹ گیا
عاشور کو جلتے۔۔۔
یہ فضل حسینی شاعر کا
شبیر سے بڑھ کر کوئی نہیں
مولا کا بھروسہ جب سے کیا
دنیا کا سہارا چھوٹ گیا
عاشور کو جلتے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.