Ashoor ki garmi hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Faazil Lakhnavi
ایمان کے اجالے ہیں عاشور کی گرمی ہے
شبیر کی قسمت ہے اور گود کے پالے ہیں
ایمان کے اجالے ہیں عاشور کی گرمی ہے
یہاں دل تہہ و بالا ہے وہاں جان کے لالے ہیں
شبیر ضعیفی میں اکبر کو سنبھالے ہیں
عاشور کی گرمی ہے۔۔۔
جس طرح کوئی چاہے گھر لوٹتے پیاسوں کا
جلتی ہُوئی ریتی پر سب چاہنے والے ہیں
عاشور کی گرمی ہے۔۔۔
عابد کو کوئی دیکھے دربار میں کوفے کے
بیڑی کو اٹھاے ہیں زنجیر سنبھالے ہیں
عاشور کی گرمی ہے۔۔۔
سلجھایا تھا لیلیٰ نے الجھی ہوی ذلفوں کو
پھر موت نے اے اکبر بال گیسوؤں والے ہیں
عاشور کی گرمی ہے۔۔۔
دیکھو تو علی اصغر آغوش میں بابا کی
کیا کانپتے ہاتھوں سے امت کو سنبھالے ہیں
عاشور کی گرمی ہے۔۔۔
بے فیض زمانے سے کیا اسکو غرض کوئی
اب فضل کی دنیا کے شبیر اُجالے ہیں
عاشور کی گرمی ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.