Main Karb O Bala Hoon
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
کربلا موت کے سائے کو نگل سکتی ہے
کربلا خاک تو کیا آگ پہ چل سکتی ہے
خسروی جبر یہاں کاشت نہیں کر سکتی
کربلا تخت کو تلووں سے مسل سکتی ہے
کربلا وقت کی رفتار بدل سکتی ہے
کربلا تاج کو برداشت نہیں کر سکتی
کب بھلا سب کو میسر ہے مصلی میرا
نام شبیر نے رکھا ہے معلی میرا
طور پر موسی نے بس ایک جھلک دیکھی تھی
ہے مجسم یہاں موجود حسین ابن علی
میری مٹی کو بھلا طور سے نسبت کیسی
باتیں کرنے وہاں اللہ سے جاتے تھے نبی
میری سرحد میں یہ قانون بدل جاتا ہے
یہاں شبیر سے ملنے کو خدا آتا ہے
میں نے عباس کے قدموں سے وفائیں لے لیں
اپنے قبضے میں زمانے کی ہوائیں لے لیں
رحمتوں نے میری بھر بھر کے بلائیں لے لیں
میری مٹی نے جو زہرا کی دعائیں لے لیں
رات دن معجزے اس واسطے ہوتے ہیں یہاں
شب عاشور کے جاگے ہوئے سوتے ہیں یہاں
میری معراج کی تاریخ ہے اکسٹھ ہجری
وہ جو صدیوں سے تھی بے چینی میری ختم ہوئی
میری تقدیر نے حر کی طرح کروٹ بدلی
میں نے مانگی تھی جو دولت مجھے شبیر نے دی
اب میری خاک کسی تاج کی محتاج نہیں
شہ کی نعلین سے بڑھ کر تو کوئی تاج نہیں
ابن زہرا نے تکلم میرے بدلے حالات
ہے میری راہ سے لپٹی ہوئی اب راہ نجات
تخت بلقیس بنی ہے میرے ذروں کی زکوۃ
ایک پیاسے نے پلایا ہے مجھے آب حیات
میری وادی پہ قیامت نہ گرائے گا خدا
جیسی ہوں حشر میں ویسا ہی اٹھائے گا خدا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.