Dekhiye yeh nazneen sab se juda hai ke nahi
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s)
دیکھیے یہ نازنیں سب سے جدا ہے کہ نہیں
عباس مسجود حیا عین وفا ہے کہ نہیں
وحدت مسجود عصمت نے کبھی مانگی تھی جو
اس دعائے پاک کی بولو جزا ہے کہ نہیں
گن پہ قابض ہو کے بھی خاموش ہے یہ باوفا
عزم و استقلال کا یہ مقتدا ہے کہ نہیں
پڑھتا آیا ہے زمیں تک یہ بھی اللہ کا کلام
یہ مجسم مظہر انما ہے کہ نہیں
جو پوچھنا ہے پوچھ لو شیر جلی کے لال سے
اس کے لہجے میں سلونی کی صدا ہے کہ نہیں
میری حسرت تھی کہ اس کو پالتا میں عرش پہ
فخر عیسی یہ حسیں معجز نما ہے کہ نہیں
مار ڈالے آنکھ سے ہی دشمن شبیر کو
اس کے ہاتھوں میں چھپی ان کی قضا ہے کہ نہیں
میرے گھر میں کر رہی ہیں عصمتیں اس کا طواف
حشر تک ممنون اس کی ہر ردا ہے کہ نہیں
پرچم عباس کے سائے میں آ کے مانگنا
پھر بتانا اس کا علم مشکل کشا ہے کہ نہیں
لفظ یہ خیرات میں اظہر کو ملتے ہیں سبھی
ہے کون کہتا اس پہ غازی کی عطا ہے کہ نہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.