Wo barsar darbar kuch afrad ki baatein
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s)
وہ برسر دربار کچھ افراد کی باتیں
دم توڑ گئیں لشکر و تعداد کی باتیں
تھا زیر نظر ایک دعاؤں کا صحیفہ
پہلے سے نظر آنے لگیں البعد کی باتیں
زندان میں ہوتی رہی قرآں کی تلاوت
اجداد سے جاری رہیں اولاد کی باتیں
الحمد کے رد پر تھیں یہ تینوں پہ تبرہ
کفران کی تشکیک کی الحاد کی باتیں
تب داد رساں تھا یہ صحیفہ ترا مولا
جب سنتا نہیں تھا کوئی بے داد کی باتیں
حیرت میں مورخ ہیں ترے خطبے کو سن کر
یہ قیدی کی باتیں ہیں کہ آزاد کی باتیں
سجاد کا خیمہ تھا کہ تقدیر کا مرکز
حل جس میں ہوئیں دین کی افتاد کی باتیں
کل شب مجھے توحید سکھائی ہے خدا نے
سجدے میں ہوئیں سید سجاد کی باتیں
زنجیر سے آتی ہیں سلونی کی صدائیں
اکبر کوئی پوچھے ابد آباد کی باتیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.