Ashoor ka manzar hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Shadman Raza
اسباب لٹ چکا ہے خیمے بھی جل چکے ہیں
ظلم و ستم کے سورج آہوں میں ڈھل چکے ہیں
اک لاشہء بے سر ہے اور زینب
کفار کا لشکر ہے اور زینب
عاشور کا منظر ہے اور زینب
بھائی کی لاش رن میں عریاں پڑی ہوئی ہے
اور ہمشیر سر برہنہ بے آسرا کھڑی ہے
اب سوگ کی چادر ہے اور زینب
کفار کا لشکر ہے اور زینب
عاشور کا منظر ہے اور زینب
نانا کی قبر چھوٹی ہائے وطن بھی چھوٹا
وہ گھر جو فاطمہ کا کل تک بسا ہوا تھا
اجڑا ہوا وہ گھر ہے اور زینب
کفار کا لشکر ہے اور زینب
عاشور کا منظر ہے اور زینب
قاسم کی لاش دیکھی اکبر کے لاش دیکھی
عباس باوفا کی اصغر کی لاش دیکھی
اب لاش برادر ہے اور زینب
کفار کا لشکر ہے اور زینب
عاشور کا منظر ہے اور زینب
شعلے بھڑک رہے ہیں گلزار پنجتن میں
اہلِ حرم کے بازو باندھے ہیں ایک رسن میں
اسلام کا لشکر ہے اور زینب
کفار کا لشکر ہے اور زینب
عاشور کا منظر ہے اور زینب
کوفے کی شاہزادی سر پر ردا نہیں ہے
یہ حال ہے کہ کوئی پہچانتا نہیں ہے
دربار ستمگر ہے اور زینب
کفار کا لشکر ہے اور زینب
عاشور کا منظر ہے اور زینب
محشر خلوص دل سے کر ذکر پنجتن کا
لکھ اپنے آنسوؤں سے نوحہ شہ زمن کا
پھر تیرا مقدر ہے اور زینب
کفار کا لشکر ہے اور زینب
عاشور کا منظر ہے اور زینب
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.