Ashoor ka din tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Dilawar Hasan
مقتل میں تھا جب چاروں طرف موت کا پہرہ
عاشور کا دن تھا
باندھے تھا کمر ظلم پہ جب لشکرِ اعدا
عاشور کا دن تھا
جب پانی کے اظہار پہ پڑتے تھے طمانچے
اور ظلم نےء تھے
جب پیاس کی شدت سے تڑپتی تھی سکینہ
عاشور کا دن تھا
مقتل میں تھا ۔۔۔
جب شہ نے سناں کھینچی تھی اکبر کے جگر سے
روتے تھے فرشتے
جب شہ نے مدد کے لیےء بابا کو پکارا
عاشور کا دن تھا
مقتل میں تھا ۔۔۔
جب لاشہء قاسم پہ ستم کرتے تھے سیار
ماں کرتی تھی فریاد
جب بالوں کو بکھرائے ہوے بیٹھی تھی کبرا
عاشور کا دن تھا
مقتل میں تھا ۔۔۔
جب ہاتھ کٹے دشت میں عباس جری کے
دریا سے نہ پلٹے
جب شاہ کمر تھام کے فرماتے تھے بھیا
عاشور کا دن تھا
مقتل میں تھا ۔۔۔
ماں بیٹھی تھی خیمے میں کلیجے کو سنبھالے
اور کرتی تھی نالے
جب شہ نے لہو چہرے پہ اصغر کا ملا تھا
عاشور کا دن تھا
مقتل میں تھا ۔۔۔
زینب کے کلیجے پہ چھری چلتی تھی گھر میں
صورت تھی نظر میں
جب شمر لعیں شہ کا گلا کاٹ رہا تھا
عاشور کا دن تھا
مقتل میں تھا ۔۔۔
جب سر سے ردا حضرتِ زینب کے چھنی تھی
جب جاں پہ بنی تھی
جب مردوں میں تھا سید سجاد اکیلا
عاشور کا دن تھا
مقتل میں تھا ۔۔۔
مادر کی تسلی کا بھی رکھا نہیں ساماں
کیسے تھے مسلمان
جب لوٹا گیا اصغر معصوم کا جھولا
عاشور کا دن تھا
مقتل میں تھا ۔۔۔
شہ لاے تھے جب عون و محمد کے جنازے
میداں سے اٹھا کے
جب حضرتِ زینب نے کیا شکر کا سجدہ
عاشور کا دن تھا
مقتل میں تھا ۔۔۔
عشرت میں بیاں کیسے کروں شہ کی مصیبت
برپا تھی قیامت
جب قبر نبی ہلتی تھی جب روتی تھی زہرا
عاشور کا دن تھا
مقتل میں تھا ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.