Kheench kar teer phir ek baar shah e deen chale
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
کھینچ کر تیر پھر اک بار شہ دیں چلے
لاش اٹھائے ہوئے جب خیمے کہ در پر پہنچے
پردہ خیمے کا ہٹاتے ہوئے کچھ دیر رکے
یاد جب آئیں سکینہ تو یہ کہہ کر پلٹے
غم سے مرجائے گی جب سامنے آئے گی بہن
بھائی کا زخمی گلا دیکھ نہ پائے گی بہن
شاہ جب لاشہ بے شیر کو ہاتھوں پہ لئے
ہائے میدان سے خیموں کی طرف جانے لگے
راہ میں سات قدم آگے بڑھے پیچھے ہٹے
اپنے زانو پہ پھر اصغر کا جنازہ رکھ کے
کیسے شبیر نے دل اپنا سنبھالا ہوگا
تیر جب گردن اصغر سے نکالا ہوگا
شدت دھوپ وہ صحرا کی تپش لو کی چبھن
قبر تلوار سے جب کھود چکے شاہ زمن
رو کے کہنے لگے پھیلا کے عبا کا دامن
کہاں یہ جلتی زمیں اور کہاں نازک سا بدن
کبھی چوما کبھی سینے سے لگایا لاشہ
باپ نے قبر میں رکھ رکھ کے اٹھایا لاشہ
آگئے لاشہ لئے خیموں کے پیچھے شہ دیں
بولے اصغر کی طرف دیکھ کے اے میرے حسیں
کاش کہ ہم بھی ترے ساتھ ہی مرجاتے وہیں
ہائے اتنا تو تجھے تیر نے بھی مارا نہیں
رن میں مارا ہے تجھے گرم ہوا نے جتنا
منہ کھلا رہ گیا پیاسہ تھا نہ جانے کتنا
سر چڑھائے گئے جب نیزوں پہ اک سر نہ ملا
خاک میں نیزہ گڑھاتے ہوئے ظالم نکلا
ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ خیموں کے پیچھے پہنچا
مار کر نیزہ جو کھینچا تو بدن ساتھ آیا
رن میں جب ام رباب آئیں یہ منظر دیکھا
اپنے بچے کا بدن نوک سناں پر دیکھا
یاعلی کہہ کے جو پھر قبر میں لاشہ رکھا
ماں نہ آجائے کئی بار یہ اٹھ کر دیکھا
پاؤں کی سمت سے تدفین کا آغاز کیا
تن چھپاتے ہوئے جب ہاتھ گلے تک پہنچا
بوسہ بے شیر کی گردن کا بڑی دیر لیا
خاک میں چہرا چھپاتے ہوئے منہ پھیر لیا
جب تڑپتے ہوئے بے شیر کی ماں کو دیکھا
سامنے ماں کے گلا کاٹ دیا اصغر کا
نیزہ اس سر میں پرویا تھا یا پھر نیزے میں سر
ہائے ذیشان و رضا ظلم یہاں بھی نہ رکا
اس نے نیزے سے بدن کھینچ کے مٹی پہ رکھا
یہ لعیں جانے یا ماں جانے یا جانے اصغر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.