Main iltifat e yaar ka qail nahi hoon dost
Noha Lyrics & Urdu Writeup
میں التفات یار کا قائل نہیں ہوں دوست
سونے کے نرم تار کا قائل نہیں ہوں دوست
مجھ کو خزاں کی ایک لٹی رات سے ہے پیار
میں رونق بہار کا قائل نہیں ہوں دوست
ہر شام وصل ہو نئی تمہید آرزو
اتنا بھی انتظار کا قائل نہیں ہوں دوست
دو چار دن کی بات ہے یہ زندگی کی بات
دو چار دن کے پیار کا قائل نہیں ہوں دوست
جس کی جھلک سے ماند ہو اشکوں کی آبرو
اس موتیوں کے ہار کا قائل نہیں ہوں دوست
لایا ہوں بے حساب گناہوں کی ایک فرد
محبوب ہوں شمار کا قائل نہیں ہوں دوست
ساغر بقدر ظرف لٹاتا ہوں نقد ہوش
ساقی سے میں ادھار کا قائل نہیں ہوں دوست
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.