Main Khak-e-Shifa Hoon
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Wajhi Hasan Zaidi
ہے کرب و بلا میرے تعارف کا خلاصہ
صد شکر خدا میں بھی ہوں توحید شناسا
قسمت سے ملا مجھ کو یہ نایاب اثاثہ
مدفون ہوا مجھ میں محمد کا نواسہ
اب حر کی طرح اوج پہ ہے میرا مقدر
سجدے مجھے کرتے ہیں زمانوں کے پیمبر
میں عام میسر نہیں ہر راہ گزر میں
ملتی ہوں فقط شاہ شہیداں کے نگر میں
ہوں لائق تعظیم ملنگوں کی نظر میں
جو اہل عقیدہ ہیں مجھے رکھتے ہیں گھر میں
بیشک میری برکت سے نجاست نہیں آتی
میں ہوتی ہوں جس گھر میں مصیبت نہیں آتی
ہم شکل پیمبر نے قدم رکھے ہیں مجھ پر
عباس دلاور نے قدم رکھے ہیں مجھ پر
شبیر کی خواہر نے قدم رکھے ہیں مجھ پر
اس طرح بہتر نے قدم رکھے ہیں مجھ پر
ہے میری طہارت کا زمانے میں جو چرچا
یہ پیکر اطہار کے قدموں کا ہے صدقہ
جس دن سے قدوم شہ والا سے ہوئی مس
اک اوج پہ قسمت میری پہنچی کیا کہوں بس
مولا نے مجھے اتنا بنا ڈالا مقدس
آیا مری تعظیم کو خود خلد سے فطرس
خلاق جہانات کا رب ازلی ہے
لیکن میرا خالق تو حسین ابن علی ہے
میں ساری خدائی میں شفاء بخش ہوں مشہور
دنیا کے طبیبوں سے الگ ہے میرا دستور
تاثیر میں ہر مرض کو کر لیتی ہوں محصور
پھر رہتا ہے بیمار سے ہر مرض بہت دور
پوچھو تو ذرا جا کے کوئی حور و ملک سے
چکھتے ہیں شب و روز مجھے آ کے فلک سے
نزدیک سے خود نور فشانی کو ہے دیکھا
ہم شکل پیمبر کی جوانی کو ہے دیکھا
ہاں حضرت شبیر کی نشانی کو ہے دیکھا
شبیر کو اور حیدر ثانی کو ہے دیکھا
ہمسر میرا اس خلق میں سرکار نہیں ہے
جیسی ہوں میں ایسا کوئی زوار نہیں ہے
یاسر یہ حقیقت میں زمانے کو سنا دوں
میں اپنی سہی طور سے پہچان کرا دوں
در اصل میری اس لیے تاثیر شفاء ہے
اوصاف کے رخ سے میں سبھی پردے ہٹا دوں
ہر صاحب ایمان کو یہ راز بتا دوں
مجھ میں بنی ہاشم کا لہو جذب ہوا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.