Sakhi Abbas Ke Hath
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Wajeeh Hasan Zaidi
مختصر ہے جو وہی بات نہ پھیلا دینا
نا امیدی کے خیالات نہ پھیلا دینا
اپنی تقدیر کی تم رات نہ پھیلا دینا
غیر کے در پہ کبھی ہاتھ نہ پھیلا دینا
پنجہ موجود علم پر ہے اشارے کے لیے
ہاتھ غازی نے بڑھایا ہے سہارے کے لیے
خواہش زینب دلگیر ہیں دست عباس
ہاں یداللہ کی شمشیر ہیں دست عباس
نور خالق ہی کی تنویر ہیں دست عباس
خلق کے کاتب تقدیر ہیں دست عباس
جسم غازی سے قلم ہو کے قلمکار بنے
کشتی دیں کے چلانے کو یہ پتوار بنے
غور سے دیکھو تو مصروف دعا ہے پنجہ
درد و غم کے لیے مرہم ہے دوا ہے پنجہ
ہر گھڑی خلق پہ مائل با عطا ہے پنجہ
کیا بتائیں تمہیں ہم لوگ کہ کیا ہے پنجہ
مہرباں ہم پہ ہے یہ نور کا سانچہ بن کر
اور یزیدوں کو یہ لگتا ہے طمانچہ بن کر
یہ بھی اک تحفہ ہے شیعوں کی عقیدت کے لیے
بات جب ہوگی وہاں بخشش امت کے لیے
حشر میں آئیں گی تب زہرا شفاعت کے لیے
اک صدا گونجے گی اٹھ جاؤ اطاعت کے لیے
دست عباس ہوئے تھے جو قلم لائی ہیں
فاطمہ حشر میں دو اصلی علم لائی ہیں
مدح مولا میں جو ماہر ہوں میں ظل ثقلین
اپنی تقدیر پہ شاکر ہوں میں ظل ثقلین
کربلا والوں کا شاعر ہوں میں ظل ثقلین
سخی عباس کا ذاکر ہوں میں ظل ثقلین
مجھ سے مت پوچھو کہ مجھ پر یہ کرم کس کا ہے
غور سے دیکھو میرے سر پہ علم کس کا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.