Sakina reh gayi zindan mein bhai bata dena
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Raza Abbas Zaidi
جب اہل حرم نے شام کے زنداں سے رہائی پائی
تم کیسے رہوگی زنداں میں اے بابا کی شیدائی
سنا جب نام صغری کا صدا آئی سنو بھیا
سجاد تڑپ کے کہنے لگے جب یاد سکینہ آئی
اتنا تو بتا دو صغری کو کیا جا کے بتائے بھائی
لگا ہے خون جس پر وہ مرے گوہر دکھا دینا
سنو بھیا شکایت ہے مجھے ان شام والوں سے
کبھی درے لگائے ہیں کبھی کھینچا ہے بالوں سے
طمانچے اتنے کھائے ہیں لہو بہتا ہے گالوں سے
بہت اچھا ہوا بھیا وطن میں رہ گئی صغری
کبھی وہ شام نا آئے اسے میری دعا دینا
ہمیں اہل ستم جب بھی سر بازار لاتے تھے
ہماری بے بسی کا وہ تماشہ یوں دکھاتے تھے
چچا کا سر گرانے کیلئے مجھ کو گراتے تھے
چچا کے پاس جانے پر زمیں سے سر اٹھانے پر
بہت مارا لعینوں نے یہ صغری کو بتا دینا
کہیں دیکھی نہیں ایسی محبت باپ بیٹی میں
مجھے دربار میں مانگا گیا جس دم کنیزی میں
دلاسہ مجھ کو دینے آگیا سر میری گودی میں
مجھے حاکم نے جب دیکھا یہ کہہ کر شمر کو بھیجا
چھڑا کر باپ کا سر تازیانوں کی سزا دینا
مجھے دربار میں بابا سے ایسے بھی ملایا تھا
ستمگر سامنے خرمے کا جب اک طشت لایا تھا
میں کتنا روئی تھی جب طشت سے کپڑا ہٹایا تھا
وہاں خرمے نہیں سر تھا بتا دینا اسے بھیا
وہ روئے تو مری غربت کا اس کو واسطہ دینا
کوئی بیٹی نہ دیکھے رن میں دیکھا میں نے جو منظر
گئی لاشوں سے ٹکراتے ہوئے بابا کے لاشے پر
کٹی انگلی بدن میں تیر دیکھے کٹ چکا تھا سر
نشاں تیروں کے اے بھیا نہ دیکھے فاطمہ صغری
پدر کا خوں بھرا کرتا وطن جا کر چھپا دینا
سکینہ جانتی ہے کیسے دیکھا زخم سینے پر
اسے کیسے بتاؤ گے نہیں آئے علی اکبر
بہن مر جائے گی بھائی کے مرنے کی خبر سن کر
بہت حساس ہے صغری گلے سے تم لگا لینا
ترا میں بھی تو بھائی ہوں یہ کہہ کر حوصلہ دینا
چلے عابد تو ذیشان و رضا آواز یہ آئی
وطن جاتے ہوئے جب کربلا جانا مرے بھائی
مرے عمو سے کہہ دینا سکینہ مر گئی پیاسی
نہیں پانی کا غم ہائے چچا تم کیوں نہیں آئے
اندھیری قید میں رو رو کے موت آئی بتا دینا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.