Ajab zehra ke bete
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Anj. Masoomeen
عجب زہرا کے بیٹے کی غریبی کا زمانہ ہے
کمر ٹوٹی ہے اور عباس کا لاشہ اٹھانا ہے
ترای پر جسے لوٹا ہے مل کر شام والوں نے
علی مرتضیٰ کے دامان دل کا خزانہ ہے
عجب زہرا کے بیٹے کی۔۔۔
لعیں کہتے تھے عباس جری کو قتل کر ڈالو
اگر اس عالم غربت میں سرور کو رلانا ہے
عجب زہرا کے بیٹے کی۔۔۔
وفا غازی کی کہتی تھی پھریرا کا لہو پوچھو
علم کو بی بیوں کے درمیان خیمے میں جان ہے
عجب زہرا کے بیٹے کی۔۔۔
کہا شبیر نے اماں سنبھالو ہاتھ غازی کے
انہیں بالی سکینہ کے نگاہوں سے چھپانا ہے
عجب زہرا کے بیٹے کی۔۔۔
رداییں رو کے کہتی تھی نہ جاؤ جانب دریا
تمہیں تو زینب و کلثوم کا بچانا ہے
عجب زہرا کے بیٹے کی۔۔۔
ہوا ہے امتحاں کب ختم غازی کے کٹے سر کا
ابھی تو بے ردا بہنوں کو لے کر شام جانا ہے
عجب زہرا کے بیٹے کی۔۔۔
اجل اکبر کے لاشے پر یہ کہہ کر بین کرتی تھی
جگر ہے نوجوان کا مگر نیزہ پرانا ہے
عجب زہرا کے بیٹے کی۔۔۔
یہ کہہ کر دشت میں شہ تربت اصغر بناتے ہیں
مجھے اے ذوالفقار اب صبر تیرا آزمانا ہے
عجب زہرا کے بیٹے کی۔۔۔
بلال کاظمی تا زندگی عباس کے غم میں
یونہی لکھ لکھ کے معصومین کو نوحے سنانا ہے
عجب زہرا کے بیٹے کی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.