Ali Ke Aashiq Anmol Ki Kahani Hai
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Wajhi Hasan Zaidi
علی کے عاشق انمول کی کہانی ہے
جنوں کی فقر کی کشکول کی کہانی ہے
جہان عقل و خرد آ سلام کر مجھ کو
میری زبان پہ بہلول کی کہانی ہے
صراط حب علی پر جو چل پڑا بہلول
جنون اوڑھ کے مجنون بن گیا بہلول
جہان فقر میں رائج ہے وہ نصاب تیرا
علی کے نام کی دیتے ہیں سب فقیر صدا
کھلا ہوا ہے تیرا اب بھی مدرسہ بہلول
زمیں پہ رہتے ہوئے خلد کی زمیں بیچی
وقار عشق تھا خاک شفا نہیں بیچی
بچا لی اپنے لیے تو نے کربلا بہلول
حروف باغ جناں کے شجر سے لگنے لگے
وہ لفظ جڑنے لگے اور مکان بننے لگے
جہاں کسی نے بھی قرطاس پر لکھا بہلول
نصیریوں کا تو رب جانے حال کیا ہوتا
ہر ایک سچا مسلماں نصیری ہو جاتا
علی کی ذات پہ کھل کر جو بولتا بہلول
وجیہہ ہاتھ اٹھاؤ کہ ساتھ دو اس کا
دعا یہ کرتا ہے اکبر کے اے میرے مولا
بنا دے ہم کو بھی کچھ کچھ ذرا ذرا بہلول
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.