Yeh Ghurbat-e-Ali Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mir Hasan Mir
یہ غربت علی ہے یہ غربت علی ہے
حق مانگنے جو زہرا دربار میں گئی ہے
آواز آ رہی ہے میں بنت مصطفی ہوں
بابا کے کلمہ گویوں میں ہی تو فاطمہ ہوں
پہچاننے سے دنیا انکار کر رہی ہے
سن کر سلام حیدر کوئی نہیں ہے رکتا
واجب نہیں سمجھتا کوئی جواب دینا
افسوس فاطمہ بھی یہ بات جانتی ہے
مسجد میں سر جھکائے مولا کھڑے ہوئے ہیں
حاکم کی تہمتوں کو چپ چاپ سن رہے ہیں
صدیقہ سب کے آگے جھٹلائی جا رہی ہے
کہتی ہیں رو کے زہرا جانے نہ دوں گی تنہا
پٹکے میں مرتضی کے ہے ہاتھ سیدہ کا
اب ہے کسی کا درہ اور دختر نبی ہے
اک کوچے میں پہنچ کر دیکھا ہے مجتبی نے
ظالم نے ضرب ماری کیسے خدا ہی جانے
بنت نبی زمیں پر غش کھا کے گر پڑی ہے
مظلوم کربلا کو یاد آ گئی سکینہ
بیٹی پہ مصطفی کی قنفذ کا ہاتھ اٹھا
پہلو میں مرتضی کی تلوار رو پڑی ہے
پہلو بھی ہے شکستہ ہاتھوں پہ بھی ہیں چھالے
ہے آپ کی امانت اب آپ کے حوالے
یہ کہہ کے مرتضی نے میت نبی کو دی ہے
کافی ہے بس یہ فقرہ رونے کو زندگی بھر
ہاتھوں کو اپنے اکثر کہتے تھے مل کے حیدر
خیبر شکن کی زوجہ گھٹ گھٹ کے مر گئی ہے
کیسے لکھے تکلم غربت علی ولی کی
زوجہ صحابیوں کے دربار میں گئی تھی
بیٹی شرابیوں کے دربار میں گئی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.