Faqat Yaad e Pidar Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Syed Askari Hasan Zaidi
تنہائی اندھیرا ہے فقط یاد پدر ہے
آزاد پرندوں پہ سکینہ کی نظر ہے
عاشور سے پھر سوئی کہاں آپ کی دختر
سونے ہی نہیں دیتی ہے اب قید ستمگر
ہر لمحہ لگا رہتا اسے شمر کا ڈر ہے
گردن میں رسن بالی سکینہ کے بندھی تھی
سن چھوٹا تھا سب بیبیوں میں کیسے وہ چلتی
پنجو پہ رہا بالی سکینہ کا سفر ہے
کانوں سے لہو بہتا تھا کھاتی تھی طمانچے
رو رو کے کہا کرتی تھی سجاد سے جا کے
بتلاؤ مجھے رستہ دریا کا کدھر ہے
پانی پہ نظر جائے تو آتی ہے تری یاد
کس طرح جیئوں اصغر بے شیر ترے بعد
اب لے جا مجھے بھی مرے اصغر تو جدھر ہے
صغری سے ملاقات بھی اب ہو نہ سکے گی
مجھ کو بھی مدینے کی فضا یاد کرے گی
اے ماں مجھے لگتا ہے کے زنداں میرا گھر ہے
رونے پہ بھی پہرا ہے کہاں جائے سکینہ
گھٹ گھٹ کے ہی مرجائے نہ زنداں میں حزینہ
آ جائیے بابا کہ بس اب وقت گزر ہے
بازار میں جب آل پہ پھینکا گیا صدقہ
رو کر سر شبیر سے کہتی رہی دکھیا
کیا اس سے بڑی کوئی قیامت کی خبر ہے
عاصم ہو بیاں کیسے وہ بچی کا دفینہ
پھر سو گئی آرام سے زنداں میں سکینہ
جب گود میں رکھا گیا شبیر کا سر ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.