Ghar Aake Fatima Ko
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Safdar Kaleem
قبر نبی پہ پہنچے جب ماں کو لے کے کمسن
زہرا پکاری ایسے جیتی ہوں آپ کے بن
کہتے تھے تم کسی کا مرتا ہے باپ جس دن
دیتے ہیں سب دلاسہ بیٹی کو آکے لیکن
گھر آکے فاطمہ کو مارا گیا ہے بابا
بیٹی کو باپ کا یوں پرسہ ملا ہے بابا
پہلو ہوا شکستہ ٹوٹی ہیں پسلیاں بھی
چہرے پہ بھی نشاں ہیں زخمی ہیں انگلیاں بھی
سیدانیوں کو کوئی یوں مارتا ہے بابا
پہلے سلام علی کو کرتی تھی ہاتھ اٹھا کر
رکھتی ہوں ہاتھ اب میں چادر میں ہی چھپا کر
ظالم کا تازیانہ جب سے لگا ہے بابا
ہنستا رہا سند کے ٹکڑے اڑانے والا
جیتے جی فاطمہ کو اس غم نے مار ڈالا
درباریوں نے مجھ کو جھوٹی کہا ہے بابا
آتا نہیں کسی کے پیروں میں ورم یونہی
دربار میں اکیلی میں دیر تک کھڑی تھی
پہلا قدم نہ پوچھو کیسے اٹھا ہے بابا
بالوں میں ہے سفیدی کم ہوگئی نظر بھی
اٹھارویں برس میں خم ہو گئی کمر بھی
اس عمر میں ضعیفہ اب فاطمہ ہے بابا
کیسے میرے حسن نے مجھ کو سنبھالا آکر
گرنے لگی زمیں پہ ہائے میں لڑکھڑا کر
ظالم کا جب طمانچہ میں نے سہا ہے بابا
اس وقت مصطفی کی تربت لرز رہی تھی
ذیشان اور صفدر جب بولی رو کے بیٹی
اب جلد موت آئے بس یہ دعا ہے بابا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.