Mere Jesi Koi Bhi Yateema Nahi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Zaigham Abbas Rizvi
راہ میں جب کسی نے سکینہؑ کہا
اک یتیمہ کے دل سے یہ آئی صدا
جب سے بابا گئے میں سکینہؑ نہیں
میرے جیسی کوئی بھی یتیمہ نہیں
کب کہاں شمر نے مجھ کو مارا نہیں
میرے جیسی کوئی بھی یتیمہ نہیں
تشنگی اور میری بڑھاتے رہے
سامنے میرے پانی بہاتے رہے
کب سے پیاسی ہوں میں جانتے تھے مگر
اپنے بچوں کو پانی پلاتے رہے
ہاں مگر پانی مجھ کو پلایا نہیں
میرے جیسی کوئی بھی یتیمہ نہیں
کمسنی میں ضعیفہ سی دکھتی ہوں میں
اتنی زخمی ہوں گرتی سنبھلتی ہوں میں
آگئی ہے سفیدی میری بالوں میں
دادی زہراؑ کی طرح سے چلتی ہوں میں
دیکھتی ہوں تو اب کچھ بھی دکھتا نہیں
میرے جیسی کوئی بھی یتیمہ نہیں
رن میں بابا نے جس دم بلایا مجھے
زخمی سینے پہ اپنے سلایا مجھے
مجھ کو لپٹا ہوا دیکھ کر لاش سے
شمر نے جس طرح سے چھڑایا مجھے
یوں کسی کو بھی بالوں سے کھینچا نہیں
میرے جیسی کوئی بھی یتیمہ نہیں
بیٹیوں کیلئے یہ دعا ہے میری
میری طرح یتیمہ نہ ہو کوئی بھی
باپ مرتا ھے جب بھی کسی کا کہیں
ہاتھ رکھتے ہیں آ آکے سر پر سبھی
حال میرا کسی نے بھی پوچھا نہیں
میرے جیسی کوئی بھی یتیمہ نہیں
لیکے تحفے میں آئے تھے جو بابا جاں
کھینچ کرچھینیں ظالم نے وہ بالیاں
درد ھے میرے کانوں میں ھائے بہت
زخم سے آج بھی اتنا خوں ھے رواں
روکتی ہوں مگر خون رکتا نہیں
میرے جیسی کوئی بھی یتیمہ نہیں
میرے کرتے کا دامن جلایا گیا
چلتے ناقے سے مجھ کو گرایا گیا
میری گردن میں باندھی گئیں رسیاں
مجھ کو پنجوں پہ جس دم چلایا گیا
ہنس رہے تھے کسی نے بھی روکا نہیں
میرے جیسی کوئی بھی یتیمہ نہیں
کربلا سے چلی شام تک آگئی
ھائے ذیشان و ضیغم وہ روتی رہی
قید خانے میں بابا کا سر جب ملا
منہ پہ منہ رکھا یہ کہہ کے چپ ہوگئیی
چھوڑ کر بابا اب مجھ کو جانا نہیں
میرے جیسی کوئی بھی یتیمہ نہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.