Shimr ka khanjar rawan hai halq e sarwar par abhi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Syed Askari Hasan Zaidi
شمر کا خنجر رواں ہے حلق سرور پر ابھی
کربلا کی ریت شہ کے خوں سے ہوگی تر ابھی
شمر بالوں سے ہٹا لے ہاتھ گستاخی نہ کر
اس طرف ہی دیکھتی ہے شاہ کی دختر ابھی
تیرہ ضربیں کند خنجر اور سوکھا تھا گلا
جسم اطہر سے جدا جیسے ہوا ہے سر ابھی
شمر خنجر اور سر خیموں میں لے کر آ گیا
چل رہا ہے بیبیوں کے قلب پہ خنجر ابھی
کند خنجر چل چکا گھوڑے بھی دوڑائے گئے
ظالموں نے ہاتھ میں پکڑے ہیں کچھ پتھر ابھی
عصر عاشورہ ہے شام غم ہے کوفہ شام ہے
آل احمد کو پھرایا جائے گا در در ابھی
قبر سے لپٹی ہوئی کہتی ہے ماں زندان میں
اٹھ سکینہ ہم رہا ہو کر چلیں گے گھر ابھی
شام کے بازار میں سجاد خوں رونے لگے
چشم مولا میں چبھا ہے شام کا منظر ابھی
کٹ گئے عباس کے بازو ردائیں لٹ گئیں
چل رہا ہے حلق عابد پر وہی خنجر ابھی
ہیں لہو میں ہاتھ تر چھالے ہیں ہاتھوں پر کئی
بھائی کے لاشے سے چن کر آئی ہے پتھر ابھی
غش میں ہیں سجاد زینب اور سکینہ ایک ساتھ
اک چھڑی ماری گئی تھی شہ کے ہونٹوں پر ابھی
ماں جلی جھولے کی لکڑی چومتی ہے بار بار
سرخ کپڑوں میں دکھے ہیں خواب میں اصغر ابھی
آج بھی لگتا ہے حیدر کربلا میں فاطمہ
چن رہی ہیں لاشہ شبیر سے پتھر ابھی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.