Maqsad Karbala Ya Ali Ya Ali
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Hasan Abbas Qummi
مقصد کربلا یاعلی یاعلی
لاالہ کیلئے خوں سے لکھا گیا یاعلی یاعلی
جب دیا بجھ گیا روشنی ہوگئی
رائے انصار کی شہ نے جب پوچھ لی
یک زباں تھے سبھی ایک اک بول اٹھا
چاہے ہو جاؤں ٹکڑے نہیں غم کوئی
بس بچانی ولایت ہے دادا تیری
دم نکلتا رہا نعرہ قاسم کا تھا
موت آئی تو دے کر گئی زندگی
جب جوانی نے پوچھا کہ جاں کس نے دی
زخم کھایا مگر لب پہ اکبر کے تھا
اپنا پیغام چھوڑا نہیں شاہ نے
شمر نے کاٹی گردن کہ چپ یہ رہے
تیغ حیران تھی جب سناں سے سنا
بولیں دربار میں جونہی بنت علی
لہجہ جس دم سنا ایسی ہیبت ہوئی
اک صحابی اٹھا اور کہنے لگا
کون ہوں میں حسن یہ بیاں کر دیا
نقش ہونے لگا خود عقیدہ میرا
میں نے کاغذ پہ جب یہ قلم سے لکھا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.