Neza
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Syed Mudassir Mehdi
کر گیا زخمی شہ دیں کا کلیجہ نیزہ
جب ستمگار نے اکبر کو تھا مارا نیزہ
گر پڑے خاک پہ گھوڑے سے یا اکبر کہہ کر
جس گھڑی سینے پہ شبیر کے آیا نیزہ
خنجر شمر نہ جب کاٹ سکا خشک گلا
شہ رگ شاہ میں ظالم نے اتارا نیزہ
کربلا کانپ گئی آ کے ستمگار نے جب
قبر بے شیر پہ مارا جو دوبارہ نیزہ
ڈر کے سجاد کے پیچھے وہ چھپی جاتی تھی
شمر نے جب بھی سکینہ کو دکھایا نیزہ
دے رہے ہونگے صدا شام غریباں میں علی
بن کے عباس اٹھا ثانی زہرا نیزہ
دے کے غازی کو صدا زینب مضطر روئیں
ابن نوفل نے جونہی پشت پہ مارا نیزہ
تیرہ ضربیں بھی لگیں شمر کی لیکن پہلے
بڑھ کے صنعان نے سرور پہ چلایا نیزہ
ظلم یہ رک نہ سکا کربلا کے مقتل تک
آل احمد نے مدینہ میں بھی کھایا نیزہ
ہائے جس نیزے نے اکبر کا جگر چیرا تھا
چھیننے چادر زینب کو وہ مارا نیزہ
شمر نے شام کے بازار میں افسوس جری
رکھ کے زینب کی ردا ہنس کے اٹھایا نیزہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.