Main panjon pe chalti rahi baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Irfan Haider
زندان کی تاریکیوں میں اپنے سینے سے لگائے ہوئے شبیر کا سر
سکینہ کہتی تھی بابا سنو میرا سفر
سب کے تھے شانے بندھے میرا بندھا تھا گلا
آپ سے کیسے کہوں کیسے کٹا وہ سفر
آل پیمبر چلی روتے ہوئے ننگے سر
آپ چلے نیزے پر کانٹوں پہ بھائی چلا
میری پھپھی راہ میں اشک بہاتی رہی
ظلم رلاتے رہے دھوپ جلاتی رہی
زخم میرے پاؤں کا دھوپ سے جلتا رہا
ماضی کے کچھ واقعے یاد جو آئے مجھے
سینے پہ کیسے مجھے آپ سلاتے رہے
یادوں میں یوں کھو گئی بھول گئی ہر جفا
صبر کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹا نہیں
نیزے سے کیا آپ نے بابا یہ دیکھا نہیں
کھنچتی رہی ریسماں چلتا رہا قافلہ
آنکھ برسنے لگی قلب ہوا نوحہ گر
آیا نظر جب مجھے نیزے پہ اصغر کا سر
روتی رہی میں اسے وہ مجھے روتا رہا
تم کو کفن دے دیا ریت کے طوفان نے
بالوں سے پردہ کیا میری پھپھی جان نے
اور میرے درد کا کوئی مداوا نہ تھا
راہ میں عموں کو جب دیکھا تو میں نے کہا
کھول دو میری رسن گود میں لے لو چچا
دیکھ کے روتے رہے میری اسیری چچا
چین میسر مجھے آ نہ سکا ایک پل
زخمی گلا ہو گیا اور میرے پاؤں شل
رات سفر میں کٹی دن بھی سفر میں کٹا
بابا مدینے کے وہ دن بھی مجھے یاد ہیں
سبز عماری میں جب بیٹھ کے جاتی تھی میں
آج ذرا دیکھئے کیسے سفر طے کیا
ایک رسن میں بندھے چھوٹے بڑوں کے گلے
لاشوں پہ روتے ہوئے کرب و بلا سے چلے
حال میرا دیکھ کے رونے لگی کربلا
مظہر و عرفان تم نوحہ پڑھو اس طرح
شام کے زندان میں بی بی میری جس طرح
دیکھ کے بابا کا سر کرتی تھی آہ و بکا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.