Akbar teri barchi ka gham kaise bhulaye maa
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Syed Wajhi Hasan Zaidi
اکبر تری برچھی کا غم کیسے بھلائے ماں
اس پر یہ ستم تجھ کو رو بھی نہیں پائے ماں
بابا یہ ضعیفی ہے اور درد کی شدت بھی
یہ لاش جواں کی ہے تنہا نہیں اٹھ سکتی
کیا بابا کے ساتھ آکر میت کو اٹھائے ماں
بیٹا تری مادر کا ارمان پرانا تھا
اے لال ترے رخ پہ سہرا بھی سجانا تھا
وہ چہرہ کفن میں اب کس طرح چھپائے ماں
اے لال جواں آ جا ماں تیری بلائیں لے
ترے بال سنوارے اور ترے زخموں کا خوں پونچھے
مٹی ترے چہرے سے مقتل کی چھڑائے ماں
جب گیارہ محرم کو مقتل میں وہ آئی تھی
تو لاش پہ اکبر کی رو رو کے وہ کہتی تھی
کس طرح سے سر تیرا کٹنے سے بچائے ماں
میں سوچتی ہوں اکثر یہ ظلم بھی کیسا ہے
نیزے پہ ترا سر ہے دل میرا تڑپتا ہے
نیزے سے جو اترے سر آنکھوں سے لگائے ماں
شوہر نہ رہا میرا بیٹا نہ رہا میرا
اور اس پہ ستم یہ ہے پردہ نہ رہا میرا
بازار میں اب چہرہ بالوں سے چھپائے ماں
ہر ایک مصیبت میں ہر ایک ہی مشکل میں
بازار کے رستوں پر دربار کی منزل میں
ہر لمحہ تجھے بیٹا رو رو کے بلائے ماں
اٹھارویں منت بھی ماں نے نہ بڑھائی تھی
یثرب سے ترا سہرا جو ساتھ میں لائی تھی
تری لاش پہ وہ سہرا اب کیسے سجائے ماں
ثقلین بھلا کیسے مادر کا بیاں ہو غم
رو رو کے وہ کرتی تھی فریاد یہی پیہم
مرے لال جہاں تو ہے وہیں جلد یہ آئے ماں
رونے پہ بھی ہے پہرہ ماتم سے بھی روکا ہے
ہر اشک پہ طعنہ ہے ہر آہ پہ درہ ہے
یہ غم بھی ہے غم تیرا کس طرح منائے ماں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.