Zinda rehan hai to
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Shadman Raza
مستقل خونِ شہادت سے نکھرنا ہوگا
زندہ رہنا ہے تو شبیر پہ مرنا ہوگا
آنکھ سے مہدیء دوراں کے لہو بہتا ہے
انتقام شہ مظلوم ابھی رہتا ہے
بدلہ لینا ہے تو میداں میں اترنا ہوگا
زندہ رہنا ہے تو۔۔۔
حالتِ جنگ میں ہے اہلِ عزا جاییں گے
ہم علی والے شہادت سے نہیں بھاگیں گے
موت کے خوف سے ظالم کو ہی ڈرنا ہوگا
زندہ رہنا ہے تو۔۔۔
احتجاج اپنا ہمیشہ ہے اصولوں کی طرح
ہم جنازوں کو اٹھا لیتے ہیں پھولوں کی طرح
ہر گلی اور ہر ایک شہر میں دھرنا ہوگا
زندہ رہنا ہے تو۔۔۔
راہ ہموار نہیں کرتے پلیدوں کے لئے
ہم سہارا نہیں بنتے ہیں یزیدوں کے لئے
اک سمندر کی طرح ہم کو بپھرنا ہوگا
زندہ رہنا ہے تو۔۔۔
حوصلہ لینا ہے بچوں کو علی اصغر سے
جوش ملتا ہے جوانوں کو علی اکبر سے
ڈوب کر خون کے دریا میں ابھرنا ہوگا
زندہ رہنا ہے تو۔۔۔
جوڑنا عالم اسلام ہے بیٹا تم نے
شہ یہ کہتے ہیں کہ قاسم تیرے ٹکڑے ہونگے
خاک پر جان میری تم کو بکھرنا ہوگا
زندہ رہنا ہے تو۔۔۔
جان سب دے چکے تو بات عجب شہ نے کہی
جنگ ایسی کبھی دنیا نے نہ دیکھی ہوگی
آج اصغر کو لیےء رن میں اترنا ہوگا
زندہ رہنا ہے تو۔۔۔
قبر بچی کی ہے زندان میں تیار قمر
اور زنجیر میں عابد ہے گرفتار مگر
لے کے میت اسی حالت میں اترنا ہوگا
زندہ رہنا ہے تو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.