Karbala Aam Karein
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Nadeem Sarwar
اے میرے دیس کے لوگو میری آواز سنو
میری آواز میں مقتل کا یہ آغاز سنو
کیا خبر تم نہ رہو کیا خبر ہم نہ رہیں
آؤ اک کام کریں کربلا عام کریں
جس طرح ثانیء زہرا نے اسے عام کیا
ایک زنجیر کی جھنکار نے وہ کام کیا
جس طرح سے شہدا نے سفر شام کیا
یعنی نیزوں سے بلند اور بھی اسلام کیا
ہم اسی طرز قیادت کی ادا عام کریں
یہ جو مجلس ہے مداوا ہے ہر اک غم کے لیے
اک سوغات ہے یہ دیدہء پرنم کے لیے
سوز دل چاہیے تہذیب محرم کے لیے
کوئی تفریق نہیں حلقہء ماتم کے لیے
رونے والوں کے لیے فرش عزا عام کریں
آؤ دیکھو کے یہ خیمہ یہ علم کس کا ہے
خون سے نام یہ صحرا پہ رقم کس کا ہے
ابھی تاریخ سے آگے یہ قدم کس کا ہے
ساری دنیا کو بتا دیں کے یہ غم کس کا ہے
ساری دنیا کے لیے غم کی فضا عام کریں
تم بھی سینے میں یہ غم لے کے چلو ہم بھی چلیں
تم بھی انکار ستم لے کے چلو ہم بھی چلیں
تم بھی حق کا یہ حشم لے کے چلو ہم بھی چلیں
تم بھی غازی کا علم لے کے چلو ہم بھی چلیں
ہر زمانے کے لیے ذکر وفا عام کریں
ایسا اعجاز تو تاریخ نے دیکھا نہ سنا
جو دیا نور کے ہاتھوں شب عاشور بجھا
سب شہیدوں کے دلوں میں وہ دیا جا کے جلا
آج بھی روشنی دیتا ہے وہی ایک دیا
ہر اندھیرے میں وہی ایک دیا عام کریں
پاس شبیر کے اپنے بھی ہیں اغیار بھی ہیں
خاندان بنی ہاشم بھی ہے انصار بھی ہیں
حر بھی ہیں جون بھی ہیں اکبر جرار بھی ہیں
جان دینے کے لیے صبح سے تیار بھی ہیں
ایسے مقتل کی فضا کو باخدا عام کریں
قافلہ رہ گیا اک دشت بلا میں پیاسہ
جن کی میراث تھی کوثر انہیں پانی نہ ملا
یہ سبیلیں ان ہی پیاسوں سے وفا ہیں باخدا
کوئی پیاسہ نہ رہے تھی یہ سکینہ کی دعا
ہر زمیں پر یہ سکینہ کی دعا عام کریں
رہنما قتل ہوا قتل قیادت نہ ہوئی
اک امام اور بڑھا ختم امامت نہ ہوئی
جسم روندھے گئے پامال شریعت نہ ہوئی
چادریں چھن گئیں باطل کی حکومت نہ ہوئی
یہ محمد کے گھرانے کی وفا عام کریں
میرے مولا میرے آقا یہ تیرا غم نہ رکے
کتنے طوفاں بھی ہلال آئے مگر ہم نہ رکے
اے عزادار یہ مجلس یہ محرم نہ رکے
وقت کتنا ہی بدل جائے یہ ماتم نہ رکے
یہ شہیدوں کا ہے ماتم باخدا عام کریں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.