Koi ho to chale Khudaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Nadeem Sarwar
قافلہ سوگیا مقتل میں سر شام سبھی
رہ گیا قافلہ سالار کوئی ہو تو چلے
استغاثہ ہے سر دار کوئی ہو تو چلے
ایک پیاسے پہ ہے یلغار کوئی ہو تو چلے
خود کو جھولے سے گرا دیتے ہیں جانے والے
کون ایسا ہے وفادار کوئی ہو تو چلے
ایک بیٹا ہے جو گہوارہ سے اترا نہ کبھی
دوسرا بیٹا ہے بیمار کوئی ہو تو چلے
لمحہ لمحہ یہ صدا دیتی ہے عاشور کی شام
بیڑیاں ہوتی ہیں تیار کوئی ہو تو چلے
رہ گیا نیزوں کے جنگل میں مسافر تنہا
یہ شہادت کے ہیں آثار کوئی ہو تو چلے
یہ ہیں ناموس نبی خیمے سے کیسے نکلیں
کیا کرے صاحب کردار کوئی ہو تو چلے
اللہ اللہ یہ لہو پہنے ہوئے تنہائی
لٹ گئی کس کی یہ سرکار کوئی ہو تو چلے
اس طرح سے در زنداں پہ سکینہ روئی
ساتھ روئے در و دیوار کوئی ہو تو چلے
جانے یہ کون پس خیمہ ہے گریاں گریاں
ہے کوئی اس کا عزادار کوئی ہو تو چلے
بیڑیاں جس کی مصیبت پہ لہو روتی ہیں
کون آیا سر بازار کوئی ہو تو چلے
کس کے لہجے میں علی بول رہے ہیں لوگو
کون بولا سر دربار کوئی ہو تو چلے
یہ صدا آج بھی مقتل سے ہلال آتی ہے
کون حق کا ہے طلبگار کوئی ہو تو چلے
جو ہو اس فوج مخالف کا سپاہی نہ چلے
ہاں مگر حر سا طرفدار کوئی ہو تو چلے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.