Zakhmi Zuljanah
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Zuljana recited by Nadeem Sarwar
زخمی ذوالجناح، زخمی ذوالجناح، زخمی ذوالجناح
میرا ماں جایا ہے کہاں چھوڑ آیا تو کہاں تیروں کے درمیاں
زینب کا دل تو پہلے سے زخمی ہے ذوالجناح
اکبر کے غم کی سینے میں برچھی ہے ذوالجناح
زخمی بدن لیے آیا ہے کس لیے کرتا ہوا فغاں
جب اتنے زخم تیرے بدن پر ہیں جابجا
باگیں کٹیں ہیں زین پہ خوں ہے جما ہوا
وہ زخم صد ہزار وہ جسم تار تار دیکھے گی کیسے ماں
اے غم نصیب زخمی بدن ذوالجناح بتا
سائے میں میرا بھائی تھا جب زین سے گرا
خنجر تھا جب قریب پانی ہوا نصیب یا خشک تھی زباں
اک دوپہر میں اپنے بھرے گھر کو روئی ہوں
حر کو حبیب کو علی اصغر کو روئی ہوں
عباس کی قسم شبیر کا یہ غم اٹھے گا اب کہاں
اے راہوار تو تو وفادار ہے بہت
اپنے سوار سے تو تجھے پیار ہے بہت
یہ کس کا ہے لہو خاموش کیوں ہے تو چپ ہے تیری زباں
کلثوم آؤ مادر اکبر ہو تم کہاں
فضہ اڑاؤ خاک قیامت ہوئی عیاں
بھائی کو چھوڑ کر اپنے لہو میں تر آیا ہے نوحہ خواں
قدموں پہ تیرے بالی سکینہ نے سر رکھا
اے ذوالجناح دشت میں بابا کو لے نہ جا
وہ کیسے سوئے گی گھبرا کے روئے گی ہے تیرا امتحاں
لے چل وہاں جہاں دل زہرا کا چین ہے
جلتی ہوئی زمین پہ جس جا حسین ہے
میں زخم دھوؤنگی غربت پہ روؤں گی لے لے ہچکیاں
گردن جھکائے سنتا رہا وہ وفا شعار
ریحان لب کشا ہوا سرور کا راہوار
اے زینب حزیں میں بے وفا نہیں شاہد ہے یہ اذاں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.