Musafiran e Museebat
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Nadeem Sarwar
نہ محمل ہے نہ ہودج ہے
نہ سر پہ علم نہ چادر ہے
مسافران مصیبت وطن میں آتے ہیں
نہ لشکر کی وہ سج دھج ہے
اللہ یہ کیسا منظر ہے
سفر سے آتے ہیں سوغات درد لاتے ہیں
کیا سلام محمد کے آستانے کو
کٹا کے آئے ہیں زہرا کے سب گھرانے کو
نہ کر قبول تو ہم بیکسوں کے آنے کو
یہ نوحہ کرتے ہیں اور اشک خوں بہاتے ہیں
مدینہ ہم تیرے والی کو آئے ہیں کھو کر
مدینہ کوفے میں سر ننگے ہم پھرے در در
مدینہ داغ رسن ہے ہمارے شانوں پر
اٹھا کے ہاتھ مدینے کو یہ سناتے ہیں
ہر اک قدم ہے بکا کب لبوں پہ بین نہیں
ہم آئے زندہ پہ زہرا کا نور عین نہیں
مدینہ اکبر و قاسم نہیں حسین نہیں
یہ کیسے کیسے جواں تھے جو یاد آتے ہیں
مدینے والو کہو اس بہن کی کیا تقدیر
جو دیکھے اپنے برادر کے حلق پر شمشیر
لہو میں غرق جو دیکھے حسین کی تصویر
لہو میں کیا یوں ہی بھائی کا سر دکھاتے ہیں
بتاؤ کہتے ہیں کیا سب اس اماں جائی کو
جو اربعین تلک دے کفن نہ بھائی کو
بہن دکھائے گی منہ کس طرح خدائی کو
کفن دیا ہے نہ ان کی لحد بناتے ہیں
چلا بشیر یہ دیتا ہوا خبر ہر جا
مگر محلہ ہاشم میں دیکھتا ہے کیا
کے اک مریضہ سر راہ ہے کھڑی تنہا
ہے منتظر کے وہ کنبے کے لوگ آتے ہیں
خبر یہ پھیلی تو ماتم ہر ایک گھر میں ہوا
نکل نکل پڑیں سب عورتیں برہنہ پا
گری زمین پہ صغری کے اس پہ چرخ گرا
جو سوگوار ہیں صغری کے پاس آتے ہیں
فضائے درد میں لے کر اداسیاں آئیں
سفر سے لٹ کے ادھر بھوکی پیاسیاں آئیں
اٹھو رسول تمہاری نواسیاں آئیں
کہ خود کو اونٹوں سے اہل حرم گراتے ہیں
جو آئی کان میں آواز بانوء مضطر
کہاں ہو اے میرے والی امام جن و بشر
تڑپ کے رہ گئی صغری بپا ہوا محشر
دبیر بس کے اب افلاک تھرتھراتے ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.