Aun o Muhammad mere Aun o Muhammad
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Haz. Aun O Mohd (a.s) recited by Nadeem Sarwar
عون و محمد میرے عون و محمد
کہتی تھی زینب اے میرے شیرو کہتی تھی زینب میرے دلیرو
جعفر طیار کے خون کے عکاس ہو خون کے عکاس
حسن میں اکبر ہو تم جوش میں عباس ہو، جوش میں عباس
جنگ کے میدان میں موت کے ارمان میں سایہء قرآن میں
ایسے اٹھو ایسے بڑھو موت پہ تم ٹوٹ پڑو
خواب یہ زینب کا تھا چاند ستارے میرے چاند ستارے
ماموں پہ ہوں گے فدا گود کے پالے میرے گود کے پالے
خواب یہ سچا ہوا سر میرا اونچا رہا ہونے کو شہ پر فدا
لال میرے شیر میرے چاند میرے
مانا کہ پیاسے ہو تم پیاس پہ قابو رہے پیاس پہ قابو
شہ کے علمدار کی ساتھ میں خوشبو رہے
ساتھ میں خوشبو
بس ہے تمنا میری لاج رہے خون کی
ہے یہ وصیت میری
کھاؤ قسم جاہ و حشم ہوگا نہ کم
ہاں میری تاکید پر دھیان تمہارا رہے دھیان تمہارا
جا کے لب نہر بھی پیاس گوارا رہے پیاس گوارا
دودھ نہ بخشوں گی میں
منہ بھی نہ دیکھوں گی میں
شیر کی بیٹی ہوں میں
وعدہ کرو آؤ چلو چپ نہ رہو
دونوں جری جنگ کو صورت آندھی بڑھے
صورت آندھی
نانا علی کی طرح موت پہ حاوی رہے
موت پہ حاوی
مل کے جو حملہ کیا
میمنہ و میسرہ
ایک میں زم ہوگیا
تیغ علی ایسی چلی دھوم مچی
عون یہ کہنے لگا بھائی محمد سنو بھائی محمد
ایک طرف میں بڑھوں
ایک طرف تم بڑھو ایک طرف تم
جنگ ہو فوج ستم
جنگ کریں ایسے ہم
ماموں ہمیں دیں علم
دیکھیں ہمیں اماں کہیں جیتے رہیں
لڑتے کہاں تک بھلا پیاس کے مارے ہوئے
پیاس کے مارے
جلتی ہوئی خاک پر دونوں تڑپنے لگے
دونوں تڑپنے
بھائی سے کہنے لگی فخر سے بنت علی
سرخ رو زینب ہوئی
صدقے تیرے بھائی میرے لال ہوئے
دیکھ رہی تھی جو ماں
خیمے کے در پر کھڑی
خیمے کر در پر
ساتھ وہیں تھے کھڑے
حضرت عباس بھی
حضرت عباس
بھائی بہن شاد تھے
صاحب اولاد تھے
وارث اجداد تھے
کہنے لگے خوب لڑے شیر میرے
عون و محمد نہ تھے
وہ در نایاب تھے
وہ در نایاب
سرور و ریحان وہ
واقف آداب تھے
واقف آداب
حکم جو ماں نے دیا
رخ نہ کیا نہر کا
پیاس کا صدمہ سہا
ماں نے کہا شکر خدا ہوئے فدا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.