Allah Janay Kahan Ho Ae Baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nadeem Sarwar
جب شام کے زنداں میں ہوئی شام حرم کو
اک آن نہ راحت تھی نہ آرام حرم کو
ہر بار ٹپکتا تھا لہو اشک رواں سے
زندان لرزتا تھا سکینہ کی فغاں سے
اللہ جانے کہاں ہو اے بابا
کتنی راتیں گزر گئیں بابا
چھوٹے سے سن میں قیدی زندان ہوگئی
بابا میں کیوں نہ آپ پہ قربان ہوگئی
دل میں جو میرے درد ہے خالق کے ہے عیاں
کیا کیا نہ خلق کلمے حقارت کے کہہ گئی
کس کو کہوں میں باپ میرا باپ ہے کہاں
میں بیکسی سے دیکھ کے منہ سب کا رہ گئی
تم بے کفن میں بے سر و سامان ہوگئی
کرتا پھٹا ہوا میری پہچان ہوگئی
گر آہ کی تو شمر پکارا خموش ہو
بے جرم کان زخمی ہوئے اور طمانچے کھائے
اور چپ ہوئی تو بے پدری نے کہا کے رو
جو چاہے مجھ فلک کی ستائی کو پھر ستائے
ان آفتوں میں گھر کے پریشان ہوگئی
شہزادی حسین کی یہ شان ہوگئی
صدقے گئی بتاؤ کہاں ہیں میرے پدر
پوتی ہوں اس کی جو کہ ہے کونین کا امیر
آئیں پدر تو جائے سکینہ بھی اپنے گھر
جس نے ہزارو قید سے چھڑوا دیئے اسیر
کیوں ایسے ظالموں کی میں مہمان ہوگئی
امت نبی کی دیکھ کے انجان ہوگئی
جب سر پہ شاہ دیں کے سکینہ نے کی نظر
منہ رکھ کے منہ پہ شاہ کے روئی جو دل فگار
چلائی رو کے ہائے غضب مر گئے پدر
صدمہ ہوا نکلنے لگی تن سے جان زار
بابا کے سر کو دیکھ کے حیران ہوگئی
ننھی سی جان جان سے بے جان ہوگئی
بس اے انیس بزم میں ہے گریہ و بکا
صدیوں تلک رلائے گا سب کو یہ مرثیہ
بالی سکینہ کرب کا عنوان ہوگئی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.