Zikre hyder
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Ali Yazdan
عجیب ضد ہے کہ ذکر حیدر نہ ہونے دیں گے
حسد جو ہے حبیب حق کا
وہ ذکر اطہر نہ ہونے دیں گے
خدا نے ازم علی کی صورت
رکھی ہے قرآن کے آیینے میں
مگر یہ باتی مسافر ہے اس پہ
کہ حق اجاگر نہ ہونے دیں گے
عجیب ضد ہے۔۔۔
خدا کرے ذکر مولا حیدر
مگر یہ انسان کچھ کہے ہے
کسی بھی صورت بلند ازم
امیر تا سر دیں گے
عجیب ضد ہے۔۔۔
فلک پہ ذکرِ علی کی بزمِ
سجاے بیٹھے ہے عرش والے
زمین والے یہ ضد کےء ہیں
کہ ہم زمیں پر نہ ہونے دیں گے
عجیب ضد ہے۔۔۔
ہمارا بھی ایک فیصلہ ہے
یونہی اٹھاتے رہیں گے پرچم
سکوں کسی گام اہلِ باطل
کو ہم میسر نہ ہونے دیں گے
عجیب ضد ہے۔۔۔
یہ کہہ کے زہرا نے آنسوؤں کو
عطا کی رومال میں سکوں نہ
تمہارے اشکوں کو ہم کبھی بھی
شرف سے باہر نہ ہونے دیں گے
عجیب ضد ہے۔۔۔
عزاے سرور ہے اب بھی باقی
وہ خود ہی دنیا سے مٹ گےء ہیں
جو کہہ رہے تھے دہر میں ہم
عزاے سرور نہ ہونے دیں گے
عجیب ضد ہے۔۔۔
یزیدیت دیکھ آجا گھر گھر
بچھا ہے فرش عزاے سرور
تمہارا یہ فیصلہ تھا ذکر
حسین گھر گھر نہ ہونے دیں گے
عجیب ضد ہے۔۔۔
یہ شور زنجیر اور خمہ کا
یہ کہہ رہا ہے زمانہ سن لے
اثر کسی موسمی ہوا کا
عزاے سرور پر نہ ہونے دیں گے
عجیب ضد ہے۔۔۔
پکاری زینب میرے برادر
میں شام و کوفہ کو سر کروں گی
تمہارے مقصد کو ذہن
انسانیت سے باہر نہ ہونے دینگے
عجیب ضد ہے۔۔۔
لبوں پہ رکھ کر علی کا چرچہ
یہ کہتے ہیں دایم اور یزداں
ہو کوی مشکل علی کی الفت
کو دل سے باہر نہ ہونے دینگے
عجیب ضد ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.