Kon Qail Tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nadeem Sarwar
کون قائل تھا سوا ملک جناں اور بھی ہے
کربلا دیکھی تو ہم سمجھے کہ ہاں اور بھی ہے
صدقے اس دل کے جو ہو حب علی سے آباد
اس سے بہتر کوئی دنیا میں مکاں اور بھی ہے
نام شبیر پہ بے ساختہ گریہ ہونا
بعد کلمے کہ یہ ایماں کا نشاں اور بھی ہے
برچھیاں مار کے اکبر کو پکارے اعدا
شہ سے پوچھو کوئی فرزند جواں اور بھی ہے
فلک پیر تجھے شہ کی ضعیفی کی قسم
علی اکبر سا زمانے میں جواں اور بھی ہے
ماں نے قاسم سے کہا صبح کو تم ہو گے شہید
اس لیے بیاہ کی جلدی میری جاں اور بھی ہے
بال کھولے ہوئے لاشے پہ جو آئیں زہرا
کھل گیا حر پہ دم نزع کہ ماں اور بھی ہے
اپنے فرزندوں کے مرنے پہ بھی گریہ نہ کیا
دہر میں زینب مظلوم سی ماں اور بھی ہے
شہ سے زینب نے کہا تم جو ہو مشتاق قضا
میری اماں کا کوئی فاتحہ خواں اور بھی ہے
لاشے پامال سر شام جو ہوتے ہیں نظیر
باغ زہرا پہ ستم بار خزاں اور بھی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.