Hum Honge Kahin
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nadeem Sarwar
شہ کہتے تھے بی بی ہمیں اب جانے دو گھر سے
وہ کہتی تھی سایہ جو یہ اٹھ جائے گا سر سے
ہائے ہائے میں تمہیں ڈھونڈ کے لاؤں گی کدھر سے
شہ کہتے تھے مقتل ہی میں پاؤ گی سکینہ
ہم ہوں گے کہیں تم کہیں جاؤ گی سکینہ
ڈھونڈو گی تو پھر ہم کو نہ پاؤ گی سکینہ
جنگل میں بہت قافلے لٹ جاتے ہیں بی بی
برسوں جو رہے ساتھ وہ چھٹ جاتے ہیں بی بی
حسرت سے یہ دم سینوں میں گھٹ جاتے ہیں بی بی
چھٹ جاؤ گی بابا کو نہ پاؤ گی سکینہ
جب عمر تھی کم ہم بھی چھٹے تھے یونہی ماں سے
سوتے تھے لپٹ کر یونہی خاتون جناں سے
کوچ ان کا ہوا سامنے آنکھوں کے جہاں سے
صدمے یہی اب تم بھی اٹھاؤ گی سکینہ
یوں کہنے لگی سینے پہ منہ رکھ کے وہ ناداں
کہتے ہیں یتیمی کسے میں آپ پہ قرباں
حضرت نے کہا سخت مصیبت ہے میری جاں
چین ایسی اذیت میں نہ پاؤ گی سکینہ
دن ہجر کے آپہنچے گئے وصل کے ایام
لکھا تھا بہت کم تیری تقدیر میں آرام
دکھلائے گی یہ صبح یتیمی کی تمہیں شام
کس طرح سے یہ داغ اٹھاؤ گی سکینہ
خاموش انیس اب کہ جگر چاک ہے غم سے
بہتا ہے لہو اشک کی جاں دیدہ نم سے
دوری یہ زیارت سہی جاتی نہیں ہم سے
کیا روضے پہ اپنے نہ بلاؤ گی سکینہ
اب آیا سمجھ میں یہ سخن ہونٹوں پہ لانا
کیوں کہتے تھے زینب اسے چھاتی پہ سلانا
ارے بانو میرے پیچھے نہ سکینہ کو رلانا
دل کہتا تھا بابا کو نہ پاؤ گی سکینہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.