Haye Sughra Bata Kya Likhun
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Nadeem Sarwar
مولا مقتل میں سر کو جھکائے
دھیمے دھیمے ٹپکتے ہیں آنسو
بولے کیا میں جواب اس کا دوں
لاش اکبر پہ تنہا کھڑے ہیں
ہائے صغری کا خط پڑھ رہے ہیں
ہائے صغری بتا کیا لکھوں
میں تو پردیس میں لٹ گیا
اپنے لشکر کو میں رو چکا
تیرا بابا غریب ہو گیا
ہائے اس کے سوا کیا لکھوں
آندھیاں میرا گھر لے گئیں
میرے لخت جگر لے گئیں
میرا نور نظر لے گئیں
ہائے اس کے سوا کیا لکھوں
خط تیرا اب سناؤں کسے
کون میری صدا پر اٹھے
شب کو جاگے ہوئے سو گئے
ہائے اس کے سوا کیا لکھوں
ہائے صغری وہ بھائی تیرا
جس نے تجھ سے تھا وعدہ کیا
کھا گئی اس کو کرب و بلا
ہائے اس کے سوا کیا لکھوں
پیار تو نے ہے جس کو لکھا
گھٹنیوں بھی جو نہ چل سکا
ہاں وہ اصغر بھی اب نہ رہا
ہائے اس کے سوا کیا لکھوں
شب کو دولہا بنایا جسے
راس آئی نہ مہندی جسے
روئیں سہرے کی لڑیاں جسے
ہائے اس کے سوا کیا لکھوں
اب سکینہ کا حافظ خدا
وقت زینب پہ بھی ہے کڑا
مجھ کو گھیرے ہوئے ہے قضا
ہائے اس کے سوا کیا لکھوں
یہ تو اچھا ہوا لاڈلی
اپنے گھر میں ہی تو رہ گئی
بے ردائی سے تو بچ گئی
ہائے اس کے سوا کیا لکھوں
خط وہ ریحان و سرور تھا کیا
خاک سے میرا مولا اٹھا
لاش اکبر پہ خط رکھ دیا
اور اس کے سوا کیا لکھوں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.