Behti Rahi Furat
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Nadeem Sarwar
اے شام غریباں
بہتی رہی فرات
خون ہو کر بہہ گیا اکبر کا دل
مسکرا کر ختم اصغر ہو گئے
ڈھل گیا دن شام آئی شام بھی ایسی کے بس
دوپہر کے بعد چھائی ایسی تنہائی کے بس
کس طرح زہرا کا گھر لوٹا گیا
کس طرح بے سر بہتر ہو گئے
کربلا کے دشت میں کیسا اندھیرا چھا گیا
آگئی شام غریباں سرخ ہے خاک شفا
جل گئے خیمے سر شام الم
کتنے منظر خاک ہو کر رہ گئے
یہ ہے وہ شام غریباں جو قیامت بن گئی
دختر زہرا کے سر سے جس نے چادر چھین لی
یا رسول اللہ قیامت ہو گئی
داخل خیمہ ستمگر ہو گئے
آج صبح دم یہ گھر روشن بھی تھا آباد بھی
سب کے وارث تھے سلامت بھائی بھی اولاد بھی
اک ہوا ایسی چلی پردیس میں
بے زباں بچے بھی بے سر ہو گئے
مرتے دم پانی پسر مانگے پدر مجبور ہے
تو بتا شام غریباں علقمہ کیا دور ہے
وائے نہر علقمہ بہتی رہی
اور پیاسے قتل اکبر ہو گئے
ایک اک قطرے کو ترسے بن میں اطفال حسین
مشک زخمی خالی کوزے لاش پامال حسین
رہ گیا میدان میں بیکس کا تن
جشن میں مصروف لشکر ہو گئے
ہے وہی منظر وہی خیمے وہی تشنہ لبی
آئی ہے شام غریباں خوں رلانے آج بھی
غم ہمیں ریحان و سرور کیوں نہ ہو
محو ماتم جب پیمبر ہو گئے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.