Karwan, Karwan Abbas Meer Karwan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Safre Imam Hussain recited by Nadeem Sarwar
یثرب سے سوئے کربلا اک کارواں رخصت ہوا
سر پہ علم سایہ فگن غازی کی آتی ہے صدا
پہلا سفر زینب کا ہے سنسان کردو راستہ
کیا شان ہے کیا دبدبہ اللہ کے پیارے ہیں یہ
کیا لوگ ہیں قرآں نما آل نبی سارے ہیں یہ
صلی علی، صلی علی قرآن کے پارے ہیں یہ
آیات کا ہے قافلہ کونین کے تارے ہیں یہ
مشک و علم ان کا نشاں زیر قدم ہے آسماں
کوئی شبیہ مصطفی یثرب سے تابہ کربلا
کوئی حسن کا دلربا ہر دم طواف قافلہ
ہے کوئی عکس سیدہ عباس کرتا ہی رہا
شبیر کا یہ قافلہ پردے کا ذمے دار تھا
تھامے علم جو ہے جواں یوں مطمئن تھیں بیبیاں
عباس وہ کردار ہے لو آگیا اس کا علم
بعد علی سالار ہے غازی جسے کہتے ہیں ہم
ایسا علم بردار ہے کہتے چلو یہ دم بہ دم
میداں میں بے تلوار ہے عباس میر لشکرم
پھر بھی علم کا پاسباں باب الحوائج مہرباں
جب شام پہنچا قافلہ تھا حشر میں مولا علی
خطبہ یہ زینب نے دیا یہ سرور و ریحان بھی
سن لے یہ قوم اشقیا نظر کرم سے آپ کی
ہم ہیں بنائے لاالہ رکھتے ہیں امید قوی
کشتی ہے دیں ہم بادباں نوحوں سے دیں گے یہ بیاں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.