Bada Roi Sakina Yahan, Haan Yeh Hai Shehr-e-Shaam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nadeem Sarwar
چھوٹی شہزادی کا ہے یہیں پر قیام
پرسہ داروں کا ہے ماتمی اژدہام
کیسا تاریک تھا کیسا ویران تھا
آج روضے پہ ہے روشنی صبح و شام
پھٹ رہا ہے جگر سوچتا ہوں اگر
کیسا ویران تھا کل یہ زندان تھا
اتنی وحشت کہ اک پل نہ گزرے جہاں
چیختی ہوں جہاں صرف تنہائیاں
رونا کیا سسکیوں پر بھی پابندیاں
رسیوں بیڑیوں طوق کے درمیاں
سر کھلے خاک پر غمزده بیبیاں
اس میں قاسم کی اکبر کی اصغر کی ماں
مانگ اجڑی ہوئی خالی تھیں گودیاں
سب کی ہمت بندھاتی تھی زینب جہاں
ہاں اسی شام کے بیچ بازار میں
بیبیاں پتھروں کی تھیں بوچھار میں
خوں میں ڈوبی محمد کی تھی بیٹیاں
ہر طرف شام میں جشن کا تھا سماں
دیکھ کر بنت زہرا کا یوں سر کھلا
نوک نیزہ سے غازی کا سر گر گیا
ہائے غازی کی غیرت کا یہ امتحاں
سر پٹکنے لگیں ساری شہزادیاں
اک قیامت سی دربار میں آگئی
جب سکینہ کنیزی میں مانگی گئی
نہ پدر نہ چچا بھائی بھی ناتواں
توڑیں سجاد نے غیض میں بیڑیاں
دختر ہند بولی سکینہ بتا
کیسے دامن جلا کیوں ہے کرتا پھٹا
اوڑھنی تیرے سر کی گئی ہے کہاں
کھینچ لیں کس شقی نے تیری بالیاں
بولی کیا حال اپنا بتاؤں تجھے
چھوڑ کے جب سے بابا گئے ہیں مجھے
میں یتیم ہوگئی اور کیا ہو بیاں
میری گردن میں باندھی گئیں رسیاں
اور اک روز زندان رونے لگا
جب سکینہ کو بابا کا سر مل گیا
بولی اب آئے ہو تم میرے بابا جاں
اتنے دن دور مجھ سے رہے ہو کہاں
روئیں ریحان و سرور کی آنکھیں لہو
روضہ شاہ زادی پہ کی گفتگو
ہائے اس وقت ہم تم کھڑے ہیں جہاں
نور ہی نور ہے کل تھیں تاریکیاں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.