Darya se phir palat kar Ghazi na aa saka haye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Sibtain Haider
دریا سے پھر پلٹ کر غازی نہ آسکا ہائے
بولی سکینہ رو کر، غازی نہ آسکا ہائے
اے پیاسے بچو اب نہ پانی کی آس رکھنا
تشنہ لبی بڑھے گی کوزے نہ پاس رکھنا
بازو رہے نہ تن پر غازی نہ آسکا ہائے
خیمے کے در سے میری دریا پہ تھی نگاہیں
سالار قافلہ کی میں تک رہی تھی راہیں
بگڑا مگر مقدر غازی نہ آسکا ہائے
چھلنی علم سے لپٹے روتے ہیں میرے بابا
خیمے میں اماں زینب کرتی ہیں جب یہ گریہ
چھن جائے اب نہ چادر، غازی نہ آسکا ہائے
جھولے کو تھام کر یہ فریاد کر رہی تھی
افسوس ہے تری بھی اب پیاس نہ بجھے گی
سن لو اے پیاسے اصغر، غازی نہ آسکا ہائے
سنتی ہوں تیر جس دم مشکیزے پر لگا تھا
پانی جہاں گرا تھا غازی وہیں گرا تھا
مقتل تھا خون سے تر، غازی نہ آسکا ہائے
رویا سحاب لکھ کے وہ کربلا کا منظر
بازو بریدہ لاشہ تڑپا تھا علقمہ پر
کہتی تھی جب وہ مضطر، غازی نہ آسکا ہائے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.