Main Zainab hoon pehchano zara aankhein kholo zakhmi baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Mir Hasan Mir
زینب کا تھا نوحہ بابا میرے بابا
میں زینب ہوں پہچانو ذرا آنکھیں کھولو زخمی بابا
کیوں سنتے نہیں بیٹی کی صدا آنکھیں کھولو زخمی بابا
حضرت کا مصلی ہے خالی کیا صبح قیامت آئی ہے
سورج کو جگاتے تھے تم تو اب نیند یہ کیسی آئی ہے
میں کب سے ہلاتی ہوں شانہ آنکھیں کھولو زخمی بابا
قربان میں اس کی غیرت کے خاموش تمہارا بیٹا ہے
دہلیز پہ حجرے کی کب سے سر اپنا جھکائے بیٹھا ہے
عباس پہ طاری ہے سکتہ آنکھیں کھولو زخمی بابا
لوگوں کے دلوں میں آج تلک سب بدر و احد کا کینہ ہے
اماں بھی نہیں اب تم بھی نہیں پھر کس کے سہارے جینا ہے
یوں چھوڑ کے مت جاؤ تنہا آنکھیں کھولو زخمی بابا
اک بار اٹھو ان سے پوچھو باغی تو نہیں بولیں گے مجھے
بن باپ کے جب میں آؤں گی پتھر تو نہیں ماریں گے مجھے
ان کوفیوں سے لے لو وعدہ آنکھیں کھولو زخمی بابا
شانوں کو چوم کے کہتے تھے بے رحم زمانہ ہے زینب
خاموش ہوئے اتنا کہہ کر دربار میں جانا ہے زینب
تفصیل بتا دو اور ذرا آنکھیں کھولو زخمی بابا
اماں کی نیابت کرتی ہوں میں بھولی نہیں ہوں منصب کو
معلوم ہے غیرت دار ہو تم پردے کا خیال ہے زینب کو
موجود ہے میرے سر پہ ردا آنکھیں کھولو زخمی بابا
کیا لکھوں جنازے کا منظر اک حشر تکلم تھا ہر سو
آنکھیں تو نہ کھولیں زیر کفن آنکھوں سے نکلے تھے آنسو
تابوت پہ جب بیٹی نے کہا آنکھیں کھولو زخمی بابا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.