Zehra Ka Lal Laut Ke Aayega Ek Din
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Mehdi (a.s) recited by Asghar Khan
پتھر کہاں کہاں پہ گراتے رہے شقی
اہل حرم کے زخموں کی تعداد کتنی تھی
زینب کہاں گری تھی سکینہ کہاں گری
سجاد خود سنائے گا روداد شام کی
بیمار ذوالفقار چلائے گا ایک دن
جب شہ رگ حسین پہ خنجر ہوا رواں
جلتے ہوئے خیام سے اٹھتا تھا جب دھواں
بے آسرا تھیں جس گھڑی زہرا کی بیٹیاں
مہدی کا نام لے کے یہ کہتی تھیں بیبیاں
مرہم ہمارے زخموں کا لائے گا ایک دن
پامالی بن میں ہوگئی فروا کے لال کی
قاسم کی بیوہ ماں کی بہو بیوہ یوں ہوئی
شبر کر نہ پائے تھے بیٹی کی رخصتی
دلہن حسن کی گھر نہ گئی قید میں گئی
فروا کے گھر بہو کو لے جائے گا ایک دن
پہلے کرے گا کام یہ ہر انتقام سے
جاگی ہوئی جو بچی ہے غربت کی شام سے
سہمی ہوئی ہے قبر میں ظالم کے نام سے
لے جائے گا سکینہ کو زندان شام سے
سینے پہ اس کو شہ کے سلائے گا ایک دن
رسی کے نیل ہوں گے نہ دروں کے کوئی وار
بازار شام دیکھے گا سادات کا وقار
غازی کرے گا ناقے پہ زینب کو خود سوار
سجاد ہوگا ہاتھوں میں تھامے ہوئے مہار
لے کر مدینے مہدی یوں جائے گا ایک دن
مہدی کے ساتھ محسن زہرا بھی آئے گا
مشکیزہ وہی ہو گا علم وہی لائے گا
وعدہ تھا جو سکینہ سے آکر نبھائے گا
اصغر کے نام کی وہ سبیلیں سجائے گا
سقا حرم کو پانی پلائے گا ایک دن
جن لکڑیوں سے فاطمہ زہرا کا گھر جلا
صغری نے جو مدینے سے اکبر کو خط لکھا
کانوں سے جو سکینہ کے گوہر ہوئے جدا
اکبر لہو میں ڈوبا جو کرتا حسین کا
غیبت سے اپنے ساتھ وہ لائے گا ایک دن
جلتا ہوا بتول پہ دروازہ جب گرا
زہرا پکارتی رہی قائم کب آئے گا
اپنی شکستہ پسلیوں پہ ہاتھ یوں رکھا
وقت قضا بھی جو نہ ہٹا پائے مرتضی
پہلو سے ماں کا ہاتھ چھڑائے گا ایک دن
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.