Ya Fatima Masooma Qum Ek Nazar Ho
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup recited by Shahid Baltistani
آلام و مصائب کا اندھیرا ہے سحر ہو
یا فاطمہ معصومہ قم ایک نظر ہو
خود آپ کے بابا نے یہ اعلان کیا تھا
اس لال کی عظمت پہ فدا اس کا ہو بابا
عرفان جو تیرا ہو تو جنت میں بھی گھر ہو
ہاں آپ کا در آل محمد کا حرم ہے
اس در کی ملے بھیک تو کیا دولت جم ہے
اے کاش اسی در پہ عطا ایک سحر ہو
ہم علم کی دولت سے جو محروم ہوئے ہیں
اس واسطے دنیا میں بھی مظلوم ہوئے ہیں
اس قوم کے ہاتھوں میں سدا علم کا در ہو
ہر سمت سے آتی ہیں سسکنے کی صدائیں
بھائی سے چھٹے بھائی کہیں بچوں سے مائیں
ہر سمت تباہی ہے کہیں راہ مفر ہو
ہر شاب کو تم عزم کا پیکر بھی بنا دو
یوں دین پہ مٹنے کا ہنر ان کو سکھا دو
ہر سانس پہ مولا کی اطاعت کی مہر ہو
جو قوم کے رہبر ہیں وہ مجرم سے ملے ہیں
ہر موڑ پہ ظالم کی وہ تائید کرے ہیں
اس قوم کے رہبر میں بصیرت کا ہنر ہو
کیوں اپنے گناہوں پہ پشیماں نہ ہوں ہر دم
جب کرب و بلا جانے سے محروم ہوئے ہم
یہ سال بھی محرومی میں میرا نہ بسر ہو
بی بی انہیں دو اصغر بے شیر کا صدقہ
اولاد کی نعمت سے تڑپتی ہیں جو دکھیا
ان ماؤں کی آغوش میں جلدی گل تر ہو
بی بی تمہیں سلطان خراساں کی قسم ہے
اعجاز دکھا دو کہ یہی وقت کرم ہے
جعفر کی زباں میں بھی عطا کچھ تو اثر ہو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.