Zainab ka hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Ali Shanawar, Ali Jee
حسین حسین مولا
زینب کا ہے ارمان حسین کا ماتم
چودہ سو برس سے ہے دنیا میں قائم
سجدے میں سر کٹایا اسلام کو بچایا
شبیر نے جاں دے کے وعدے کو ہے نبھایا
زینب کا ہے ارمان۔۔۔
چودہ سو برس سے ہے۔۔۔
احمد کا نواسہ تھا زہرا کا دلارا تھا
نو لاکھ لعینوں نے پیاسا جسے مارا تھا
زینب کا ہے ارمان۔۔۔
چودہ سو برس سے ہے۔۔۔
اکسٹھ سن ہجری کو دسویں کی قیامت کو
چودہ سو برس بیتے مولا کی شہادت کو
زینب کا ہے ارمان۔۔۔
چودہ سو برس سے ہے۔۔۔
اسلام کے محسن کا سر نیزے پے آیا ہے
سادات کے خیموں کو اعدا نے جلایا ہے
زینب کا ہے ارمان۔۔۔
چودہ سو برس سے ہے۔۔۔
ہر سال محرم میں اک سوگ کے عالم میں
مصروف زمانہ ہے مظلوم کے ماتم میں
زینب کا ہے ارمان۔۔۔
چودہ سو برس سے ہے۔۔۔
عاشور زمانے میں پیغام یہ لاتا ہے
شبیر کی غربت پر جو اشک بہاتا ہے
زینب کا ہے ارمان۔۔۔
چودہ سو برس سے ہے۔۔۔
زنداں کے اندھیرے میں غربت کے سویرے میں
دفنایا سکینہ کو عابد نے جو کرتے میں
زینب کا ہے ارمان۔۔۔
چودہ سو برس سے ہے۔۔۔
ریحان و شناور نے سرور نے علی جی نے
نوحوں کی عبادت سے آباد رکھے سینے
زینب کا ہے ارمان۔۔۔
چودہ سو برس سے ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.