Bheer barhti ja rahi hai shaam ke bazar ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Anjuman Guldasta-e-Jaffria
بھیڑ بڑھتی جا رہی ہے شام کے بازار کی
سانس نہ رک جائے یارب قافلہ سالار کی
چھین کر زینب کی چادر شمر یہ کہتا رہا
لوٹ لی دستار میں نے احمد مختار کی
صرف چالیس سال ہوں گے خون رونے کے لیے
عمر ہی کتنی بچی تھی عابد بیمار کی؟
ظلم سے نیلے ہوئے نیلے سے کالے ہو گئے
شام تک رنگت بدلتی ہی رہی رخسار کی
اک منادی شام کی گلیوں میں دیتا ہے صدا
رسیوں میں بیٹیاں ہیں حیدر کرار کی
آج تک ثقلین کھل کر لکھ نہ پایا ہے کوئی
شام کی اک اک گلی زینب نے کیسے پار کی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.