Ghubar e karb o bala be sarab kaisa tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General
غبار کرب و بلا بے سراب کیسا تھا
کسی نے چکھ کے نہ دیکھا کہ آب کیسا تھا
شب گمان ذرا حر کو دیکھ اور بتا
برائے صبح یقیں آفتاب کیسا تھا
یہ پوچھتا ہے تبسم نگر کا شہزادہ
سوال جو بھی تھا میرا جواب کیسا تھا
گلوئے سرخ نے کھل کر بہ شاخ تیر و کماں
بھلا دیا ہے کہ پہلے گلاب کیسا تھا
خلاصہ مشک تھی حسن خلاصہ اک چلو
طویل جنگ کا لب لباب کیسا تھا
کتاب شام بتا سینے اور نیزے میں
سکون کیسا تھا اور اضطراب کیسا تھا
حساب تھا اسے اک اک طناب خیمہ کا
مگر بہ شرح وفا بے حساب کیسا تھا
رداؤں کو بھی کیا اس نے ساتھیوں میں شمار
بہتروں کے برابر یہ باب کیسا تھا
کلام کہف سے اکبر تا باب الطلقا
سفر میں بھائی بہن کا خطاب کیسا تھا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.