Aye Jannat ul Baqeeh
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Joan Rizvi
ہم تیری حسب منشاء تعمیر کر نہ پائے
تو منہدم ہوئی جب ہم تب بھی بے خبر تھے
شرمندگی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ
سوتی ہے ایک بی بی پہلو ہے جس کا زخمی
چہرے پہ بھی نشاں ہیں ٹوٹی ہیں پسلیاں بھی
جب سے ملی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ
مولا حسن بھی ہیں اور عابد بھی ہیں یہیں پر
باقر بھی ہیں یہیں پر جعفر بھی ہیں یہیں پر
یوں دلگی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ
بنت اسد یہیں پر ام البنیں یہیں پر
رہتی ہیں ام سلمی زیر زمیں یہیں پر
دنیا سجی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ
تجھ پر جو حاکموں نے پہرے بٹھا دیئے ہیں
اپنے تئیں وہ تیری عظمت گھٹا رہے ہیں
خائف شہی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ
کعبے سے جو عداوت اصحاب فیل کو تھی
اولاد ابرہہ اور آل سعود کو بھی
نفرت وہی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ
آل سعود ہو یا ہوں خارجی و نجدی
ڈھایا جنہوں نے تجھ کو دونوں جہاں میں ان کی
ذلت ہوئی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ
ماہ عزا ہے ہم کو شوال کا مہینہ
تعمیر جب تو ہو گی وہ دن خوشی کا ہو گا
غم اور خوشی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ
اجداد کا وطن اور مدفن ہے سبط جعفر
تجھ پر ہو یوں بھی رحمت اے سر زمین سرور
یہ دین بھی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.