Kaisa Qaidi Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Kazim (a.s) recited by Syed Zill-e-Raza Zaidi
عمر بھر قید میں جو صاحب آزار رہا
کیسا قیدی ہے جو مر کر بھی گرفتار رہا
اپنی زنجیروں کو وہ چوم کے روتا تھا سدا
کربلا ہی کے اسیروں پہ رہا محو بکا
قید میں شام کے قیدی کا عزادار رہا
طوق کے زخم کے ہر درد کو وہ سہتا تھا
کروٹیں لیتا تو زخموں سے لہو بہتا تھا
اس اذیت میں وہ راتوں کو بھی بیدار رہا
پل پہ بغداد کے کاظم کا تھا ایسے لاشہ
بے کفن شاہ کا میداں میں تھا جیسے لاشہ
تین دن یہ بھی کفن کا ہی طلبگار رہا
لاش بغداد کی گلیوں میں عدو کھینچتے تھے
اس کی مظلومی بھلا کیسے بیان ہو پائے
جس کے لاشے سے جہاں برسر پیکار رہا
ٹھیک سے جاگ سکا اور نہ وہ سو پایا
قتل ہو کر بھی وہ آزاد نہیں ہو پایا
جب تلک زندہ رہا جینے سے بیزار رہا
ظلم سب کوفے کے بغداد میں دہرائے گئے
لاش کے پیروں میں رسی تھی گلی کوچے تھے
یہ بھی مسلم کی طرح بیکس و لاچار رہا
ظل ثقلین ادا اجر رسالت یہ ہوا
پل پہ بغداد کے کاظم کا پڑا ہے لاشہ
جینا دشوار تھا اور مرنا بھی دشوار رہا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.