Aao Baba Ko Rukhsat Karo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
بیٹیاں تھیں جنازہ تھا احساس تھا
دور بابا کی میت سے عباس تھا
وقت رخصت کفن جب ہٹایا گیا
آخری بار چہرا دکھایا گیا
اپنے عباس کا جب خیال آگیا
دے کے آواز شبیر نے یہ کہا
جب سے بابا نے چومے ہیں شانے تیرے
کربلا یاد آتی ہے بھائی مجھے
ایک زخمی بدن ہوگا جب بے کفن
کون آئے گا بھائی اٹھانے اسے
آج سب ہیں چلو تم مرا ساتھ دو
دور بیٹھو نہ اب میرے غازی اٹھو
جانتا ہوں بہت صبر تم نے کیا
اپنے بابا کے قاتل کو پانی دیا
زخم گہرا ہے اب بھی شکستہ ہے سر
اس نے تلوار سے وار ایسا کیا
ضرب کے زخم سے خون پھر نا بہے
دیکھو میت رکھی ہے بہت دیر سے
جیسے اماں نے مجھ کو بلایا سنو
تم بھی بابا کو اک بار آواز دو
ماں کی طرح سے بند کفن توڑ کر
اپنے سینے سے تم کو لگا لیں گے وہ
ان کا احساس ہو تم تو عباس ہو
میرے بابا کے دل کے بہت پاس ہو
بس یہ ارمان ہوتا ہر باپ کا
میرے بیٹے اٹھائیں جنازہ مرا
کہہ کے یہ بات شبیر رونے لگے
اور پھر ہاتھ سینے پہ رکھ کر کہا
ایسا نا ہو کبھی باپ اٹھائے کوئی
اپنے کاندھے پہ میت جواں لال کی
یاد ہے تم کو بابا نے جاتے ہوئے
ہاتھ رکھا تمہارا مرے ہاتھ پہ
تم کو شب کی نمازوں میں مانگا گیا
اے مرے بھائی کرب و بلا کیلئے
کیا یہ صدمہ ہے کم ہیں یتیم آج ہم
ہائے آغاز کرب و بلا ہے یہ غم
تھام کر اپنی ٹوٹی ہوئی پسلیاں
دیکھو بابا کے پہلو میں بیٹھی ہیں ماں
ہائے غربت وہی ہاتھ پہلو پہ ہے
تازیانوں کے جس پر ہیں اب بھی نشاں
دیکھو اے باوفا ساتھ ہیں مصطفی
چل کے بابا کو اب بول دو الوداع
دیکھو بابا کی میت سے لپٹی ہے وہ
تم ہی زینب کے جینے کی امید ہو
بھائی شبر نے رخ سے ہٹایا تھا جو
اپنے ہاتھوں سے تم وہ کفن باندھ دو
عکس خیبر شکن مر نہ جائے بہن
تم کو دیکھے گی تو چھوڑ دے گی کفن
بات بہنوں کی آئی تو غازی اٹھے
اپنے بابا کی میت کی جانب چلے
آکے بابا قدموں کا بوسہ لیا
اے رضا حال ذیشان کیسے لکھے
جب جنازہ اٹھا گھر میں کہرام تھا
رو کے عباس نے بھائیوں سے کہا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.